وزیراعلیٰ مریم نواز کا ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی پر اظہار برہمی، ہسپتالوں کی بہتری کیلئے تین دن کی مہلت
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے سربراہ معاون خصوصی شعیب مرزا نے اضلاع کی کارکردگی سے متعلق کے پی آئی رپورٹ پیش کی۔
اجلاس میں مری، گوجرانوالہ، اٹک، بہاولپور، چکوال، جہلم، لیہ اور ساہیوال کی کارکردگی کو سراہا گیا، جبکہ بعض اضلاع میں بیوٹیفکیشن پلان کی تکمیل اور معیار میں تساہل پر وزیراعلیٰ نے برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے بیوٹیفکیشن منصوبوں میں پائیداری اور معیار یقینی بنانے، ہر منصوبے میں فواروں سمیت دیگر واٹر فیچرز شامل کرنے کی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات پر سو فیصد کنٹرول کا حکم دیتے ہوئے اوکاڑہ سمیت دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو وارننگ جاری کی۔ انہوں نے گورننس اور سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی سکواڈ قائم کرنے کی ہدایت کی، جو روزانہ 12 گھنٹے انسپکشن اور مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کرے گا۔
وزیراعلیٰ نے سٹریٹ لائٹس کو سو فیصد فعال بنانے، مین ہولز کو مکمل طور پر محفوظ کرنے، زیبرا کراسنگ اور سکول سیفٹی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو واٹر فلٹریشن پلانٹس فعال بنانے جبکہ جنرل بس ٹرمینلز اور گرین بس شیڈز کی تعمیر و مرمت اور صفائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں ہسپتالوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے روزانہ ہسپتالوں کے دورے کرنے کا حکم دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں کی ڈیپ کلیننگ اور سڑکوں کی روزانہ دھلائی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
مریم نواز شریف نے پنجاب کو تجاوزات سے پاک بنانے کے لیے مشترکہ آپریشن کرنے، کھلے پلاٹوں میں کوڑا پھینکنے پر مالکان کو پہلے وارننگ، پھر بھاری جرمانہ اور تیسرے مرحلے میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے دیواروں سے وال چاکنگ، پھٹے ہوئے بینرز اور غیر ضروری اشتہارات ہٹانے جبکہ صوبے بھر میں آوارہ کتوں پر قابو پانے کا بھی حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لین مارکنگ، عمارتوں پر رنگ و روغن اور صاف ستھری سڑکیں کسی اچھے شہر کا تاثر اجاگر کرتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز اور انتظامیہ کی لاپرواہی سے میری ساکھ پر حرف آتا ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جا کر طلبہ کو ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں کے بارے میں آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ہر ڈپٹی کمشنر کو اپنے ضلع کی معاشی ترقی کے لیے ڈسٹرکٹ اکنامک پلان تیار کرنے کا حکم دیا اور بہتر کارکردگی پر افسران کو شاباش جبکہ ناقص کارکردگی پر وارننگ جاری کی۔
اجلاس میں مختلف اضلاع کے بیوٹیفکیشن منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خانیوال میں اکبر بازار، میاں چنوں کے مین بازار اور جہانیاں کے اللہ داد بازار کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ شیخوپورہ کے مین بازار، اکبر بازار، ہمایوں بازار، چھوٹا اڈہ بازار، صفدرآباد، شرقپور اور مریدکے کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنر کو بیوٹیفکیشن منصوبوں پر شاباش دی گئی جبکہ ایمن آباد، کامونکی اور نوشہرہ ورکاں کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں چار بیوٹیفکیشن پلان نومبر تک مکمل کرنے، راولپنڈی میں پانچ منصوبوں پر کام اور گرین بیلٹس کی بہتری جبکہ گجرات میں نئی سکیمیں شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
رحیم یار خان کے بیوٹیفکیشن منصوبوں میں اصل منصوبے سے مختلف سکیمیں شامل ہونے پر وزیراعلیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فوڈ سٹریٹس اور فوڈ کارٹس بہتر افراد اور کمپنیوں کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ای بز، کتوں کے کاٹنے کے واقعات، ستھرا پنجاب، ہسپتالوں، سکولوں اور دیگر عوامی سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ کے پی آئی رپورٹ میں پرائس کنٹرول، روڈ اینڈ سٹریٹ سیفٹی، عوامی سہولیات، ڈویلپمنٹ مانیٹرنگ، ریگولیشن اینڈ انفورسمنٹ، اربن آرڈر، کلین اینڈ گرین پنجاب، عوامی مقامات اور سٹیزن سروسز سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
