(لاہور نیوز) وزیر مواصلات و تعمیرات پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں 2024 سے اب تک جنوبی پنجاب کیلئے 221 ارب 80 کروڑ روپے کے ترقیاتی پورٹ فولیو کی تفصیلات پیش کی گئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب میں سڑکوں اور بلڈنگز کے 179 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، ان منصوبوں میں سڑکوں کے 690 منصوبے شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر 146 ارب 24 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
مکمل ہونے والے اہم منصوبوں میں ملتان تا وہاڑی 93.5 کلومیٹر طویل دو رویہ شاہراہ کی تعمیر جبکہ بہاولپور تا شرقی انٹرچینج 42 کلومیٹر اضافی کیرج وے کی تعمیر شامل ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب میں 32 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت سے بلڈنگز کے 18 منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں، صحت کے شعبے میں 524 بنیادی مراکز صحت کی ری ویمپنگ جبکہ 37 دیہی مراکز صحت کو مریم نواز ہیلتھ کلینکس میں تبدیل کیا گیا ہے، اسی طرح 34 تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اور 8 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب میں 7 ارب 13 کروڑ روپے کے چار بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کیلئے صحت کے شعبے میں 35 ارب 74 کروڑ روپے کے چار نئے میگا پراجیکٹس بھی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔
ان مجوزہ منصوبوں کے تحت ڈیرہ غازی خان میں 15 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے کلثوم نواز کینسر ہسپتال قائم کیا جائے گا، اس کے علاوہ 13 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں کارڈیک سرجری یونٹس اور کیتھ لیبز قائم کرنے کا منصوبہ ہے، بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال جبکہ بہاولپور اور رحیم یار خان میں برن یونٹس بھی قائم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر وزیر مواصلات و تعمیرات پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور تعمیراتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی اور عوام کو جدید سفری و طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے علاقے میں بنیادی ڈھانچے اور صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
