اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 388.00 زندہ مرغی
  • 563.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

ملک میں بلاک چین ٹیکنالوجی سے سرمایہ کاری کےمواقع پیدا ہو سکتے ہیں: بلال بن ثاقب

02 Nov 2026
02 Nov 2026

(لاہور نیوز) وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

لاہور میں نجی یونیورسٹی میں ’ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری‘ کے مستقبل کے موضوع پر منعقدہ مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی ملک کے مالیاتی نظام میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ترسیلات زر کی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی سے ملکی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا اضافی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

 وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان محض جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے امکانات صرف بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی تجارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مستقبل کے مالیاتی نظام میں اپنا کردار خود متعین کرنا ہوگا، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مالیاتی جدت کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں، جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال سے رقوم کی منتقلی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے جب کہ ترسیلات زر کی منتقلی پر آنے والی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی سے ملکی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے کے لیے پیوارا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر کام کر رہے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک سے پاکستان رقوم کی منتقلی کے لیے ایک پائلٹ منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے ترسیلات زر کے نظام کو زیادہ مؤثر، آسان اور کم لاگت بنانا ہے۔ 

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے