اپ ڈیٹس
  • 239.00 انڈے فی درجن
  • 388.00 زندہ مرغی
  • 563.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

لاہور ہائیکورٹ کا ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ

02 Nov 2026
02 Nov 2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے ڈیلی ویجز ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے اہل ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دے دیا، جبکہ پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں کام کرنے والے اہل ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کو مستقل نہ کرنے سے متعلق پنجاب حکومت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دیدیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق  نے محمد بلال رضا و دیگر کی درخواستوں سمیت ملازمین کی 26 آئینی درخواستوں پر 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، جسٹس خالد اسحاق  نے فیصلے میں لکھا کہ مستقل نوعیت کے کام پر مسلسل نو ماہ سے زائد خدمات انجام دینے والے اہل ملازمین مستقل ورکرز قرار پانے کے حق دار ہیں۔

پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی کا اطلاق ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی ہو گا اور مستقل ورکرز کا قانونی درجہ حاصل کرنے کیلئے الگ سے نوٹیفکیشن جاری کرنا ضروری نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز خودمختار ادارے ہونے کی بنیاد پر حکومتی پالیسی کے اطلاق سے انکار نہیں کر سکتیں، ملازمین کی بار بار 89 روزہ تقرریاں مستقل نوعیت کے کام کی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتیں، ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین تقرری کے نام سے نہیں بلکہ کام کی نوعیت اور مدت سے کیا جائے گا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی ہو سکتا ہے، بعض ملازمین کو مستقل ورکرز کا درجہ دینا جبکہ دیگر کو اس حق سے محروم رکھنا امتیازی سلوک ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین کو زبانی احکامات کے ذریعے ملازمت سے فارغ کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، ملازمت ختم کرنے کیلئے تحریری حکم جاری کرنا اور اس کی وجوہات بیان کرنا ضروری ہے، جبکہ کسی ملازم کے خلاف منفی کارروائی سے قبل اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا بھی لازم ہے۔

فیصلے کے مطابق انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ (سٹینڈنگ آرڈرز) 1968 کے تحت قانونی شرائط پوری کرنے والے ملازمین مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظات حاصل کرنے کے حق دار ہیں، اس میں ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین بھی شامل ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دینے کا مطلب انہیں سول سرونٹ کی حیثیت سے مستقل کرنا یا سول سروس میں خودکار ریگولرائزیشن نہیں ہے، بلکہ انہیں سٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے