اپ ڈیٹس
  • 267.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 534.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے کا منصوبہ، خودکار مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم

23 Oct 2026
23 Oct 2026

(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے کے دریاؤں، نہروں اور قدرتی آبی ذخائر کو آلودگی سے بچانے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں، جس کے تحت پانی کے معیار کی نگرانی کیلئے 15 خودکار مانیٹرنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے مطابق ان اسٹیشنز پر ہر گھنٹے پانی کے 14 مختلف معیارات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، جبکہ پانی کے معیار سے متعلق انڈیکس جاری کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔

ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹر  کے انچارج  نے بتایا کہ اس نظام کے ذریعے آبی آلودگی کی سطح اور اس کے اسباب کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ دریائے راوی، چناب اور سندھ سمیت مختلف مقامات پر پانی کے معیار کی نگرانی کی جا رہی ہے، ہڈیارہ ڈرین میں آلودگی کے ذرائع معلوم کرنے کیلئے 56 مقامات سے پانی کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں، جن کا چاروں موسموں میں تجزیہ کیا جائے گا۔

ابتدائی مشاہدات کے مطابق ہڈیارہ ڈرین میں لاہور کے قریب آلودگی کی سطح سرحد کے نزدیک مقامات کی نسبت زیادہ پائی گئی ہے، تاہم آلودگی کے مختلف ذرائع کا درست تناسب تحقیق مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

رپورٹ کے مطابق لاہور میں تقریباً 10 سے 11 مقامات سے غیر صاف شدہ شہری سیوریج اور آلودہ پانی دریائے راوی میں شامل ہو رہا ہے، جس سے پانی کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔

دوسری جانب ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے خلاف کارروائی کیلئے خصوصی واٹر سکواڈز بھی متحرک ہیں، جبکہ لاہور میں گندے پانی کی صفائی کیلئے آٹھ سے نو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق آبی آلودگی پر قابو پانے کیلئے مسلسل نگرانی کے ساتھ سیوریج اور صنعتی فضلے کی صفائی، ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بروقت تکمیل اور ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے