(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے سموگ کی روک تھام کیلئے صوبے بھر میں کارروائیاں تیز کردیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف 219 مقامات کی انسپیکشن کے دوران 7 مقامات سیل، 1,238 کلوگرام پلاسٹک ضبط اور ایک لاکھ 6 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، باربی کیو پوائنٹس اور کمرشل کچنز سے دھوئیں کے اخراج کی روک تھام کیلئے 128 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 64 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کئے گئے جبکہ خلاف ورزی پر 4 مقامات سیل کردیئے گئے، اڑتی ہوئی دھول کی روک تھام کیلئے 12 مقامات کا معائنہ، 7 کو نوٹس جاری اور ایک مقام پر سپرنکلر نصب کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں دھان کی فصل کی کٹائی کا 44 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور فصل 27 لاکھ 87 ہزار 398 ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی ہے، فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کیلئے کسانوں کو 10 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے گئے ہیں۔
مریم اورنگزیب کے مطابق سپارکو اور موٹروے کے ڈیٹا کی بنیاد پر فصلوں کی باقیات جلانے کے 109 مقامات کے شواہد سامنے آئے، جس پر 10 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور 53 مقدمات یا استغاثے درج کیے گئے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، حکومت دھان کی باقیات جلانے کے بجائے بیلرز، کبوٹا مشینوں اور جدید زرعی مشینری کے ذریعے تلف کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے شہریوں اور کسانوں سے اپیل کی کہ سموگ سیزن کے دوران فصلوں کی باقیات اور کوڑا کرکٹ نہ جلائیں، گاڑیوں کی فٹنس یقینی بنائیں، کارپولنگ اپنائیں اور گردوغبار پھیلانے سے گریز کریں۔
