(لاہور نیوز) وفاقی حکومت نے گیس سیکٹر کو مالی طور پر مستحکم اور مسابقتی بنانے کیلئے اصلاحات پر غور شروع کر دیا، مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت گیس سیکٹر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر پٹرولیم، مشیر نجکاری، معاون خصوصی برائے توانائی اور عالمی بینک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس میں گیس سیکٹر کی تنظیم نو اور ڈی ریگولیشن کے مجوزہ لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا، نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، گردشی قرضے اور کراس سبسڈیز کے مسائل حل کرنے پر زور دیا گیا۔
شرکا نے گیس کمپنیوں کی مالی استعداد اور عملیاتی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا جبکہ گیس کے شعبے میں غیر حساب شدہ نقصانات کم کرنے اور طلب و رسد میں عدم توازن دور کرنے کیلئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گیس سیکٹر اصلاحات کا مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، گیس کی قیمتوں کو مستحکم اور پائیدار بنانے کیلئے اصلاحاتی فریم ورک پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ برآمد کنندگان کو مسابقتی نرخوں پر گیس کی فراہمی بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں گیس سیکٹر میں کاروبار سے کاروبار کی بنیاد پر لین دین کو فروغ دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی، شرکا کو بتایا گیا کہ اصلاحات سے توانائی کے تحفظ اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے جبکہ مالیاتی اور حکومتی مالیاتی خطرات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تمام متعلقہ فریقوں کو قابل عمل اصلاحاتی ڈھانچے پر متفق کرنے پر زور دیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ گیس سیکٹر اصلاحات کیلئے ترکیہ اور برطانیہ کے تجربات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں گیس سیکٹر میں اصلاحات مرحلہ وار اور مشاورت کے ساتھ نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ حکومت نے گیس کی بلا تعطل فراہمی اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گیس سیکٹر کا مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا جس کے بعد مزید تکنیکی کام اور مشاورت کی جائے گی۔
