لاہورہائیکورٹ:سابق جج جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری کی پنشن مراعات کی درخواست خارج
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ ظفر اقبال چوہدری کو پنشن اور مراعات نہ دینے کے معاملے پر دائر آئینی درخواست خارج کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کے ججز پر مشتمل کمیٹی اور چیف جسٹس کے فیصلے کو آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کی شق (5) کے تحت ہائیکورٹ کو اس نوعیت کے عدالتی نظرثانی کے دائرہ اختیار سے استثنیٰ حاصل ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری کی پنشن اور مراعات سے متعلق درخواست ججز کمیٹی نے منظور نہیں کی تھی، جس کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بھی درخواست مسترد کر دی تھی۔ درخواست مسترد کیے جانے سے متعلق رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے 11 مئی 2026 کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا۔
عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جس کام کی براہ راست اجازت نہیں، اسے درخواست میں ترمیم کے ذریعے بالواسطہ طور پر بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے آئینی درخواست میں ترمیم کی استدعا بھی مسترد کر دی اور پنشن و مراعات سے متعلق مرکزی آئینی درخواست اور ترمیمی درخواست دونوں خارج کر دیں۔
