اپوزیشن کمیٹی کے ساتھ اچھا معاہدہ تیار ہوا، سہیل آفریدی نے سبوتاژ کر دیا: محسن نقوی
(لاہور نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوص نیت سے مذاکرات کیے، ایک بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کر دیئے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا، جب میں صدر سے ملاقات کے بعد واپس آیا تو ڈرافٹ میں بہت ساری تبدیلیاں بتائی گئیں، 4 بار ڈرافٹ تیار ہوا اور 4 بار ڈرافٹ تبدیل ہوا۔
محسن نقوی نے کہا کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے، ڈرافت تیار ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نہیں مانتے، تمام فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو خود مذاکرات میں شریک ہوتے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم نےکہا تھا دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائیں، ہم نے کہا دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرتے ہیں، ہم نےلانگ مارچ ملتوی کرنےکی درخواست نہیں کی، پیپلزپارٹی کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ ملتوی ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ کے پی حکومت مذاکرات کو ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات ہی نہ کرتے، جب آپ غیر سنجیدہ اور نا سمجھ لوگ اس قسم کی سیٹوں پر بٹھاتے ہیں تو اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایک چیز تو بالکل واضح ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں 9 مئی جیسا سانحہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے چاہے آپ کسی بھی صورت میں آ جائیں، ہم ہر حال میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بحال کروائیں گے اور اگر کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف سہیل آفریدی ہوگا۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے کل کی میٹنگ میں بھی اپوزیشن وفد پر واضح کیا کہ آپ نے احتجاج کرنا ہے تو بالکل کریں لیکن ہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج میں شریک جو بھی ورکر یا رہنما گرفتار ہوا اس کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی ہو گی، اگر پی ٹی آئی والوں نے قانون شکنی کی تو ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں بلکہ ان کے پیچھے جائیں گے۔
