(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سموگ کنٹرول آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے، آلودگی کے مقامی ذرائع کی نگرانی، روک تھام اور فوری فیلڈ انفورسمنٹ بیک وقت جاری رکھی گئی ہے۔
لاہور میں اس وقت ہوا کی رفتار 5 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے، جو جنوب مغرب سے شمال مشرق کی جانب چل رہی ہے، جبکہ ایئر کوالٹی انڈیکس 169 ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق صبح 10 بجے کے بعد ہوا کی رفتار میں اضافے سے فضائی آلودگی کی صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔
سموگ سیزن سے قبل پنجاب بھر میں پیشگی اقدامات کے تحت ڈرون سکواڈ، نائٹ سکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ سکواڈ 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 220 صنعتی یونٹس کی انسپکشن کی گئی، 7 یونٹس سیل، 8 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی میں 379 بھٹوں کی انسپکشن، 3 بھٹے مسمار، 4 سیل اور 4 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 10 بھٹوں کو نوٹس اور 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائی کے دوران 230 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 4 مقامات سیل، 3515 کلوگرام پلاسٹک ضبط، 45 نوٹس جاری اور 66 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس پر دھوئیں کے اخراج کی روک تھام کے لیے 206 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 86 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے، 16 مقامات سیل جبکہ 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں گردوغبار کے خاتمے کے لیے واٹر سپرنکلنگ کا عمل بھی تیز کردیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 1006 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا جبکہ 35 روڈ شولڈرز کی مرمت و تعمیر کی گئی۔
تعمیراتی آلودگی کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں اور کھلے و غیر محفوظ تعمیراتی سامان کو ڈھانپنے کے لیے 46 اقدامات کیے گئے ہیں۔
فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے۔ 3 اکتوبر تک پنجاب میں 8 لاکھ 15 ہزار 558 ایکڑ رقبے پر چاول کی فصل کی کٹائی مکمل ہوچکی ہے۔ فصلوں کی باقیات تلف کرنے کے لیے مشینی طریقہ اپنانے کے تحت 187 بیلرز اور 1259 کبوٹا مشینیں فیلڈ میں سرگرم ہیں، جن کے ذریعے 4 لاکھ 26 ہزار 759 ایکڑ رقبے پر کٹائی مکمل کی گئی۔
پنجاب حکومت کے مطابق 10 ہزار سے زائد سپر سیڈرز کی فراہمی بھی جاری ہے تاکہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے انہیں زمین میں شامل کیا جاسکے۔ کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے اب تک 4 لاکھ 48 ہزار 712 کسانوں کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سموگ کے خلاف جنگ صرف ایک موسم تک محدود نہیں، حکومت نے مانیٹرنگ، انفورسمنٹ، مشینی کاشت، واٹر سپرنکلنگ اور عوامی آگاہی کو جامع ایکشن پلان کا حصہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مانیٹرنگ اور فیلڈ ایکشن میں کوئی وقفہ نہیں آنے دیا، تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں متحرک ہیں اور خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کچرا اور پلاسٹک جلانے سے گریز کریں جبکہ کسان فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے جدید مشینی طریقے اختیار کریں۔
