(لاہور نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ احتجاج کے نام پر انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ 2014 سے اب تک 12 برسوں میں پانچ مواقع پر جتھہ بندی ہوئی اور مختلف اوقات میں اسلام آباد کا محاصرہ کرکے بدامنی پھیلائی گئی، وفاق پر جتھوں کے ذریعے حملہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے جس کے اثرات ملک کی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پشاور سے جتھے اسلام آباد آئے اور سپریم کورٹ کو محصور کرنے اور سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بات کی گئی، 2014 میں تحریک انصاف کی جانب سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، نو مئی کے واقعات میں فوجی تنصیبات سمیت 29 مقامات کو نقصان پہنچایا گیا، جو سیاسی حق کے دائرے میں نہیں آتا، آئین کسی کو بھی پُرتشدد احتجاج کی اجازت نہیں دیتا اور موجودہ چیلنجز پر قابو پانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے بار بار اسلام آباد آنے والے احتجاجی قافلوں کے اثرات کا جائزہ لینا ہو گا، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر دوبارہ اسلام آباد میں جتھہ بندی ہوئی تو اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا ہو گا، ریاستی اداروں، معیشت اور دارالحکومت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی آئین میں اجازت نہیں۔
ملک محمد احمد خان نے لیسکو کے علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور مبینہ کرپشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لیسکو افسران کام کے عوض شہریوں سے بھاری رقوم طلب کرتے ہیں اور ٹرانسفارمرز کی تنصیب و مرمت کیلئے بھی شہریوں سے رقم وصول کی جاتی ہے، کھڈیاں، کنگن پور سمیت مختلف علاقوں میں آٹھ، آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں، ایک بچے کے بجلی کی ننگی تاروں سے جھلسنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جبکہ تاروں کی شکایت کئی ماہ سے کی جا رہی تھی۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لیسکو کی مبینہ کرپشن کا معاملہ اسمبلی کی انکوائری کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے اور ان کے پاس مبینہ طور پر کرپٹ افسران سے متعلق فہرست اور ریکارڈ موجود ہے، کمیٹی کی کارروائی کے ساتھ یہ معاملہ وزیراعظم کو بھی بھیجا جائے گا۔
ملک محمد احمد خان نے الزام عائد کیا کہ بعض افسران نے فیکٹریوں میں بجلی چوری کے معاملات میں مبینہ طور پر رقم لے کر کارروائی نہیں کی، سالانہ اربوں روپے کی مبینہ وصولیوں اور غیرقانونی ترقیوں سے متعلق معاملات کی تفصیلات بھی وزیراعظم کے سامنے رکھی جائیں گی، لیسکو افسران کے خلاف کارروائی سیاسی مداخلت نہیں بلکہ حلقے کے عوام کے مسائل اور مبینہ کرپشن کے خلاف اقدام ہے، اگر کسی شہری نے بجلی چوری کی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے، پورے گاؤں کی بجلی بند کرنا مناسب نہیں۔
