(لاہور نیوز) شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 158 ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہوا کی رفتار 2 سے 7 میل فی گھنٹہ ہے۔ ہواؤں کا رخ جنوب سے شمال اور مشرق کی جانب ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں انسداد سموگ کے لیے بھرپور ایکشن جاری ہے، جبکہ آلودگی کے مقامی ذرائع کے خلاف فیلڈ انفورسمنٹ، مانیٹرنگ اور روک تھام کا مربوط نظام فعال کر دیا گیا ہے۔
ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ متحرک ہیں، جو آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس، بھٹوں اور دیگر ذرائع کے خلاف موقع پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 269 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کی گئی، 11 یونٹس سیل، ایک کے خلاف مقدمہ درج اور 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔ 431 بھٹوں کی انسپیکشن کے دوران 5 بھٹے مسمار، 9 سیل، 9 مقدمات درج اور 14 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائیوں میں 309 مقامات کی انسپیکشن کی گئی، 17 مقامات سیل، ایک ہزار 297 کلوگرام پلاسٹک ضبط اور ایک لاکھ 48 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
دھوئیں کے بڑے مقامی ذرائع کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 245 باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی۔ 55 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کیے گئے جبکہ 34 مقامات کو سیل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ماحول دوست پنجاب پالیسی کے تحت کمرشل کچنز اور باربی کیو پوائنٹس پر سکشن ہڈز کی تنصیب اور ان کی مؤثر فعالیت یقینی بنانے کا عمل بھی جاری ہے۔
گردوغبار کے تدارک کے لیے 1178 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، 44 مقامات پر کھلے تعمیراتی میٹریل کو کور کرایا گیا جبکہ روڈ شولڈرز کی مرمت کے 9 اقدامات کیے گئے۔
فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف کسانوں سے براہِ راست رابطہ بھی جاری ہے۔ پنجاب میں 2 لاکھ 15 ہزار سے زائد کسانوں تک رسائی حاصل کی گئی جبکہ 4 لاکھ 31 ہزار سے زائد کسانوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے۔
پنجاب میں فصلوں کی مکینیکل کاشت کا عمل بھی جاری ہے۔ 63 لاکھ 32 ہزار ایکڑ سے زائد رائس ایریا میں سے 6 لاکھ 38 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر فصل کاشت کی جا چکی ہے، جس کے تحت 10 فیصد ہدف مکمل ہوا ہے۔
1259 کبوٹا مشینوں کے ذریعے 2 لاکھ 80 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے کی برداشت مکمل کی گئی، جبکہ 187 بیلرز کے ذریعے تقریباً 89 ہزار ایکڑ فصلوں کی باقیات کا مؤثر انتظام کیا گیا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے مشینی طریقہ اختیار کرنے کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا واضح عزم ہے کہ صاف ہوا، محفوظ ماحول اور بہتر صحت کے لیے سموگ کے ہر مقامی ذریعے کے خلاف کارروائی، آگاہی اور روک تھام تینوں محاذوں پر ایکشن جاری رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سموگ کے خاتمے کے لیے کسانوں اور شہریوں کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ کسان اپنی فصلوں کی باقیات ماحول دوست طریقے سے تلف کریں جبکہ شہری ہر قسم کے دھوئیں کی اطلاع 1373 پر دیں۔
