(لاہور نیوز) سموگ کے تدارک کیلئے فیلڈ انفورسمنٹ مزید تیز کر دی گئی ہے، ڈرون، نائٹ سکواڈ اور ہاک آئی ٹیموں کے ذریعے مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے۔
ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائیاں کی جا رہی ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 اینٹوں کے بھٹوں اور 11 صنعتی یونٹس کی انسپیکشن کی گئی، خلاف ورزیوں پر متعدد بھٹوں اور صنعتی یونٹس کو سیل کر دیا گیا، جبکہ صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک ایف آئی آر درج اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
حکام کے مطابق باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس کی 34 مقامات پر چیکنگ کی گئی، جن میں سے 9 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کرائے گئے جبکہ خلاف ورزی پر 9 مقامات کو سیل کیا گیا، کمرشل کچنز اور باربی کیو پوائنٹس پر دھوئیں کے اخراج کی نگرانی مزید سخت کرنے اور سکشن ہڈز کی مؤثر فعالیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
پلاسٹک کے شعبے میں 7 مقامات کی انسپیکشن کی گئی، جبکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں، سموگ کے تدارک کیلئے سالڈ ویسٹ، ٹائر، ربڑ اور پلاسٹک جلانے والوں کو 212 وارننگ نوٹس جاری کئے گئے اور 14 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسی طرح تجاوزات اور غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف 421 نوٹس جاری کرتے ہوئے 37 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا، گردوغبار پر قابو پانے کیلئے 977 کلومیٹر سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، جبکہ تعمیراتی مواد کو ڈھانپنے کے 37 اقدامات کئے گئے، 6 مقامات پر روڈ شولڈرز کی مرمت کے ساتھ ساتھ 76 نئے درخت بھی لگائے گئے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سارا سال فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو متحرک کر رکھا ہے۔
مریم اورنگزیب نے سموگ کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون پر اہلِ لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے فیلڈ میں نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
