اپ ڈیٹس
  • 245.00 انڈے فی درجن
  • 313.00 زندہ مرغی
  • 454.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.35 قیمت فروخت : 41.41
  • یورو قیمت خرید: 322.65 قیمت فروخت : 323.23
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.83 قیمت فروخت : 376.50
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 200.14 قیمت فروخت : 200.50
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 200.81 قیمت فروخت : 201.17
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.86 قیمت فروخت : 74.00
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
شہرکی خبریں

صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف

14 Sep 2026
14 Sep 2026

(ویب ڈیسک) صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا خاموشی سے بڑے پیمانے پر جمع کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن اور کانٹیکٹس تک ایپس کی خفیہ رسائی، صارف کو ادراک نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

“Accept” یا “Allow” کے کلک میں ذاتی ڈیٹا تک رسائی، لوکیشن اور سرچ ہسٹری محفوظ، الگورتھمز کے ذریعے سیاسی، مذہبی اور ذاتی ترجیحات کا اندازہ لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

صارف کا ڈیٹا اہم اثاثہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کے پرائیویسی حقوق پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ایک حالیہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور گوگل جیسے عالمی پلیٹ فارمز صارفین کے فون اور آن لائن سرگرمیوں سے وسیع پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، جس میں براؤزنگ ہسٹری، لوکیشن، کانٹیکٹس، فائلز اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہو سکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں فیس بک کے ڈاؤن لوڈز کا حجم اربوں میں ہے جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد اس کے مقابلے میں کم ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی اکاؤنٹ یا ایپ متعدد ڈیوائسز پر کیوں استعمال ہوتی ہے اور ڈیٹا کس حد تک پھیل چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید ایپلیکیشنز صارفین سے مختلف قسم کی اجازتیں حاصل کرتی ہیں، جن کے ذریعے وہ لوکیشن، کانٹیکٹس، میڈیا فائلز، مائیکروفون اور دیگر ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ رسائی اکثر صارفین کی جانب سے “accept” یا “allow” کے ذریعے دی جاتی ہے، جس کا مکمل ادراک عام صارف کو نہیں ہوتا۔

بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام نہ صرف آن لائن سرگرمیوں بلکہ آف لائن ڈیٹا جیسے ڈیوائس انفارمیشن، ایپ استعمال کے پیٹرنز اور لوکیشن سگنلز کو بھی مختلف طریقوں سے جمع کر سکتے ہیں۔

اسی طرح گوگل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی سروسز کے ذریعے صارفین کی طویل مدتی لوکیشن ہسٹری اور سرچ سرگرمیوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے، جو بعض صورتوں میں کئی سال پر محیط ہوتی ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے