(لاہور نیوز) پودینے کو عام طور پر کھانوں کی خوشبو اور ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ پودینہ صرف چٹنی یا سلاد تک محدود نہیں، بلکہ اس کے کئی اجزا صحت کے لیے بھی مفید ہیں،خاص طور پر گرمیوں میں اسکی ٹھنڈی تاثیر جسم اور ذہن کو تازگی کا احساس دے سکتی ہے۔
پودینہ، جسے نباتاتی طور پر مینتھا کہا جاتا ہے، لامیسی خاندان سے تعلق رکھنے والی خوشبودار جڑی بوٹی ہے۔ بھارت، برازیل اور چین سمیت مختلف ممالک میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ اس میں پولی فینولز اور کیفیک ایسڈ جیسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ پودینے کو روایتی طور پر بعض فنگل انفیکشنز کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پودینے کی نمایاں خوشبو ذہنی تھکن اور تناؤ کے احساس کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ جسم میں کورٹیسول، یعنی اسٹریس سے وابستہ ہارمون، کی سطح کو منظم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔
جلد کے لیے بھی پودینے کے مختلف فوائد بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کے پتوں میں موجود روسمارینک ایسڈ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات رکھتا ہے، جو جلد کو فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد کرسکتا ہے۔ پودینے میں موجود سیلیسیلک ایسڈ اور وٹامن اے جلد میں سیبم کی مقدار کو متوازن رکھنے میں بھی معاون سمجھے جاتے ہیں، جس سے جلد پر اضافی تیل اور مہاسوں کے مسائل میں مدد مل سکتی ہے۔
نظامِ ہاضمہ کے حوالے سے بھی پودینہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اجزا ہاضمے کے عمل میں مدد دینے والے انزائمز اور ہاضماتی رس کے اخراج کو متحرک کرسکتے ہیں، جس سے خوراک ہضم کرنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔ بہتر ہاضمہ جسم کو غذائی اجزا جذب کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
پودینے میں موجود مینتھول زکام اور کھانسی کے دوران ناک اور سانس کی نالی میں جمع بلغم کو ڈھیلا کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے اسے خارج کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
پودینے میں موجود مینتھول کو بلڈ پریشر سے متعلق فوائد کے حوالے سے بھی بیان کیا جاتا ہے، تاہم ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے صرف پودینے پر انحصار کرنا مناسب نہیں اور طبی مشورہ ضروری ہے۔
