(لاہور نیوز) مہنگے پھل سستے نہ ہوسکے، سرکاری ریٹ لسٹ بھی بے اثر دکھائی دینے لگی۔ سرکاری نرخ نامے میں دو پھلوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا، تاہم اوپن مارکیٹ میں بیشتر پھل مقررہ سرکاری نرخوں کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں۔
پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جارہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجات کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوگئے۔
سیب کالا کلو پہاڑہ اسپیشل کی سرکاری قیمت میں 10 روپے اضافہ کرکے 320 روپے فی کلو مقرر کی گئی، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 420 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔
درجہ اول کیلے کی سرکاری قیمت 190 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ بازار میں یہی کیلا 220 روپے فی درجن تک فروخت ہورہا ہے۔ انگور سندرخانی کی سرکاری قیمت 595 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر پرچون بازاروں میں 1050 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔
امرود کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کرکے سرکاری نرخ 200 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، جبکہ مارکیٹ میں 300 روپے فی کلو تک فروخت جاری ہے۔ انار دیسی کا سرکاری نرخ 310 روپے فی کلو ہے، لیکن بازار میں قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
پپیتا کا سرکاری نرخ 270 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ پرچون بازاروں میں 380 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ جاپانی پھل کا سرکاری نرخ 200 روپے فی کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں 360 روپے فی کلو تک فروخت کیا جارہا ہے۔
گرما کا سرکاری نرخ 185 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ بازار میں 250 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ مسّمی کی سرکاری قیمت 130 روپے فی درجن ہے، تاہم مارکیٹ میں 200 روپے فی درجن تک فروخت کی جارہی ہے۔
ایرانی کھجور کا سرکاری نرخ 435 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، جبکہ اوپن مارکیٹ میں 520 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔
سرکاری نرخ نامے اور اوپن مارکیٹ کے درمیان واضح فرق نے شہریوں کو پریشان کردیا، جبکہ مہنگے پھل متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے مزید دور ہوگئے ہیں۔
