(لاہور نیوز) نائب امیر جماعت اسامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر پٹرول کی قیمت آگے پیچھے ہو سکتی ہے لیکن لیوی ٹیکس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
فیصل چوک پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کا دھرنا جاری ہے، جس میں عوام اور تاجر برادری بھرپور شرکت کر رہی ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بڑھائی جارہی ہیں، جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، پٹرول، ڈیزل، بجلی، آٹا، گھی سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو احساس نہیں کہ عوام کتنی مشکلات سے گزر رہے ہیں، اس وقت مہنگا پٹرول، مہنگا ڈیزل، مہنگی گیس اور مہنگا آٹا عوام کیلئے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ یوٹیلٹی بلز میں مسلسل اضافے نے بھی شہریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تاجروں اور عام عوام نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیا ہے، منظم اور پرامن احتجاج سیاست، جمہوریت اور عوامی جدوجہد کیلئے اہم ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا احتجاج عوام کو براہ راست ریلیف دلانے کیلئے ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ رات کی تاریکی میں عوام پر پٹرول بم گرایا گیا اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا، حکمرانوں کے پاس عوام پر ظلم کے سوا کوئی کام نہیں، پٹرولیم مصنوعات پر عائد ناجائز لیوی فوری واپس لی جائے، آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پٹرول کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے، لیکن پٹرولیم لیوی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت فی لٹر پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کی صورت میں تقریباً 130 سے 148 روپے اضافی وصول کر رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف پٹرول مہنگا ہو رہا ہے بلکہ گھریلو صنعت اور عام آدمی بھی شدید متاثر ہو رہا ہے، متوسط طبقے کیلئے موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلوانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال اور پنجاب حکومت کی جانب سے سلمان رفیق نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کو اسلام آباد میں بات چیت کیلئے بلایا گیا ہے، عوام کو ریلیف ملنے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ناجائز لیوی کے خاتمے کے مطالبے کیلئے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
