(ویب ڈیسک) طبی ماہرین کے مطابق مسلسل جسمانی تھکاوٹ اور یادداشت کی کمزوری کی ایک ممکنہ وجہ جسم میں فولیٹ، یعنی وٹامن بی 9 کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔
طبی رپورٹ کے مطابق اکثر افراد مسلسل تھکن، چیزیں بھولنے اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کو کام کے دباؤ یا نیند کی کمی سے جوڑتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں اس کی وجہ جسم میں فولیٹ کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔
فولیٹ جسم میں خون کے سرخ خلیات بنانے کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے، اس کی کمی خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور فرد کو مسلسل تھکاوٹ محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فولیٹ دماغی اور اعصابی افعال کیلئے بھی اہم ہے، اس کی کمی سے یادداشت متاثر ہونے، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، سستی اور مزاج میں چڑچڑاپن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
فولیٹ کی کمی کی دیگر ممکنہ علامات میں پٹھوں کی کمزوری، چکر آنا، رنگت کا پیلا پڑنا جبکہ زبان میں سوجن یا منہ میں چھالے شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق سبز پتوں والی سبزیاں، خصوصاً پالک اور بروکلی، دالیں، مٹر، انڈے اور گری دار میوے فولیٹ کے قدرتی ذرائع ہیں، جنہیں متوازن روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم مسلسل تھکاوٹ، یادداشت کی خرابی یا دیگر علامات کی صورت میں خود سے وٹامن سپلیمنٹ استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ اور ضرورت کے مطابق طبی معائنہ کروانا بہتر ہے۔
