(لاہور نیوز) پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غزہ کے فلسطینی میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا، فلسطینی طلبہ کو پاکستان میں صرف کلینیکل ٹریننگ کی اجازت ہوگی۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق پاکستان میں غزہ کے فلسطینی میڈیکل طلبہ کی ہاؤس جاب، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور رجسٹریشن نہیں ہوگی، غزہ کے فلسطینی طلبہ کی پاکستان میں کلینیکل ٹریننگ کا فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھا۔
پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ فلسطینی طلبہ کو دی گئی کلینیکل ٹریننگ کی سہولت مستقل پالیسی یا استحقاق تصور نہیں ہوگی، فلسطینی میڈیکل و ڈینٹل طلبہ کو پاکستان میں رجسٹریشن اور لائسنسنگ کی سہولت نہیں دی جا سکتی۔
کونسل کے مطابق غیر ملکی گریجویٹس کے لیے قومی رجسٹریشن امتحان کا قانونی راستہ موجود نہیں ہے، فلسطینی یا دیگر غیر ملکی گریجویٹس کو این آر ای میں بیٹھنے کی اجازت دینے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
پی ایم ڈی سی کے 14 جولائی کے اجلاس میں فلسطینی طلبہ کو مزید سہولت دینے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، ہاؤس جاب، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ، رجسٹریشن اور لائسنسنگ کی درخواستوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے فلسطینی میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق سرکلر تمام میڈیکل اداروں کو ارسال کر دیا، میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو فلسطینی طلبہ سے متعلق پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق کلینیکل ٹریننگ کے دائرہ کار سے باہر داخلہ یا ٹریننگ میں توسیع قانون کی خلاف ورزی تصور ہوگی، فلسطینی طلبہ کو پاکستان میں ڈگری یا طبی قابلیت دینے کا اختیار کسی ادارے کو نہیں ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فلسطینی یا دیگر غیر ملکی طلباء سے نئے وعدے اور یقین دہانیاں نہ کرائیں۔
