(لاہور نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ مؤثر صحت کا نظام حکومتوں کی کارکردگی اور عوامی اعتماد پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحت کے شعبے میں تحقیق اور جدت کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان کے طبی اداروں کو دنیا سے سیکھنے کے ساتھ ملکی مسائل کے حل کیلئے خود بھی تحقیق کرنا ہو گی۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ طبی اداروں کو صرف تعلیم دینے تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ تحقیق اور نئی راہیں تلاش کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئے، ڈاکٹرز صحت سے متعلق فیصلوں کے بنیادی رہنما ہیں، اس لئے طبی معاملات میں ان کی پیشہ ورانہ رائے کو اہمیت دی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین کو اپنے پیشہ ورانہ فیصلوں میں مناسب آزادی اور خودمختاری حاصل ہونی چاہئے، صحت کے پیچیدہ مسائل کا حل صرف حکومتی احکامات سے ممکن نہیں، اس کیلئے ڈاکٹرز، ماہرین، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹرز کو طبی تعلیم کے ساتھ دنیا کے مختلف صحت کے نظاموں کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے، جبکہ میڈیکل طلبہ تحقیق، مطالعہ اور صحت کی پالیسی کو اپنی تعلیمی تربیت کا حصہ بنائیں، معیاری نجی تعلیمی ادارے ملک میں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، میرٹ اور معیار پر پورا اترنے والے تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے، دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی معیاری طبی سہولیات اور تربیت یافتہ ڈاکٹرز کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
ملک محمد احمد خان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان پہلے سے زیادہ معلومات اور بہتر تعلیمی مواقع رکھتے ہیں، انہیں بڑے خواب دیکھنے چاہئیں اور اپنی صلاحیتوں سے ان خوابوں کو عملی تعبیر دینی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ملک اور انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کریں، امید ہے آج کے نوجوان پاکستان کے طبی شعبے کو دنیا میں ممتاز مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
