’’ضمانت سزا کے طور پر نہیں روکی جا سکتی‘‘ لاہور ہائیکورٹ کا جعلی کرنسی کیس میں اہم فیصلہ
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد پرویز نے جعلی کرنسی کیس میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ملزم کی جانب سے اعترافِ جرم کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت سزا کے طور پر نہیں روکی جا سکتی، جبکہ جرم ثابت ہونے تک ملزم کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں اور ایک ضامن کے عوض ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس امجد پرویز نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ ملزم کے خلاف جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں۔
فیصلے کے مطابق ملزم کی گرفتاری مصروف عوامی مقام سے ہوئی، تاہم کارروائی کے دوران کوئی گواہ شامل نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزم سے جعلی کرنسی کی برآمدگی کے علاوہ اس کے خلاف جعلی نوٹ بنانے یا فروخت کرنے کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سابقہ یا ممکنہ خریدار یا گاہک کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ آبزرویشن صرف ضمانت کے فیصلے تک محدود ہے اور اس فیصلے سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔
