اپ ڈیٹس
  • 268.00 انڈے فی درجن
  • 328.00 زندہ مرغی
  • 475.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.14 قیمت فروخت : 41.21
  • یورو قیمت خرید: 320.63 قیمت فروخت : 321.21
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 373.71 قیمت فروخت : 374.39
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.74 قیمت فروخت : 196.10
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 198.13 قیمت فروخت : 198.49
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.93 قیمت فروخت : 74.06
  • کویتی دینار قیمت خرید: 904.25 قیمت فروخت : 905.88
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

نیب کی 36 سالہ کارکردگی، 16 ہزار 93 ارب روپے ریکوری کئے گئے

07 Aug 2026
07 Aug 2026

(لاہورنیوز) نیب حکام نے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیرصدارت سینیٹ کی لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیب نے 1991 سے جون 2026 تک 16 ہزار 93 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔

 

ڈی جی نیب کے مطابق گزشتہ 36 برسوں کے دوران نیب نے 5 لاکھ 5 ہزار 799 شکایات کا جائزہ لیا، 7 ہزار 339 انویسٹی گیشن مکمل کیں، ایک لاکھ 21 ہزار 147 انکوائریز کیں اور 4 ہزار 105 ریفرنسز دائر کیے۔

نیب حکام نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برس کے دوران نیب کو ساڑھے 22 ارب روپے کا بجٹ ملا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ اتنے کم بجٹ میں سب سے زیادہ ریکوریاں کرنے پر نیب سرفہرست ہے۔

ڈی جی نیب آپریشنز نے کمیٹی کو بتایا کہ 2022 سے 2024 تک کیسز کی شفٹنگ بہت زیادہ ہوئی، اس دوران یہ مسئلہ بھی رہا کہ کس کیس کو دیکھنا ہے اور کس کو نہیں، انہوں نے کہا کہ نیب 50 کروڑ روپے سے کم رقم کی خوردبرد کے کیسز ڈیل نہیں کرتا۔

چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب میں غلط شکایات درج ہونے کے باعث لوگوں کا اعتماد ختم ہوا، جھوٹی شکایات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔

چیئرمین نیب نے کمیٹی کو بریفنگ میں کہا کہ انہیں چار ماہ کا وقت دیا جائے تو وہ تیل، بجلی سمیت بڑے چیلنجز کو دور کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مینڈیٹ دیا جائے اور ایک ہائی لیول کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں ایف بی آر، ایس ای سی پی اور مسابقتی کمیشن کے حکام کو شامل کیا جائے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ تیل اور بجلی سمیت بڑے بحرانوں کا حل موجود ہے اور اس کے لیے چار ماہ کا وقت درکار ہے، تاہم وہ چار ماہ کا وقت بھی زیادہ مانگ رہے ہیں اور اس سے کم مدت میں مسائل حل کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو منصوبہ تیار کیا جائے گا وہ زمینی حقائق کے مطابق اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہوگا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے