بانی پی ٹی آئی قیدِ تنہائی میں نہیں، عدالت میں اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ جمع
(لاہور نیوز) بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں قید کے تین سال مکمل ہونے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی۔
رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے، امتیازی سلوک کرنے اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
دوسری جانب جسٹس خادم حسین سومرو کل قیدِ تنہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کریں گے، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی، بشمول بانی پی ٹی آئی، کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ قیدی ہیں اور قانون کے مطابق سزا کاٹ رہے ہیں، ان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح قانونی تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے جب کہ بہتر کلاس قیدی ہونے کے باعث انہیں جیل قواعد کے مطابق اضافی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے باعث ان کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، عام قیدیوں کو ان کے رہائشی حصے تک رسائی حاصل نہیں، تاہم یہ حفاظتی اقدامات ہیں، قیدِ تنہائی نہیں۔
بانی پی ٹی آئی سات سیل پر مشتمل کمپاؤنڈ میں دن بھر آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں اور صرف رات کے مخصوص اوقات میں اپنے سیل میں رہتے ہیں۔
جیل حکام نے لکھا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ معمول کے مطابق ان سے ملاقات کرتے ہیں جبکہ جیل کا ڈاکٹر روزانہ تین مرتبہ طبی معائنہ کرتا ہے، جس میں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، آکسیجن سیچوریشن اور دیگر طبی علامات کی جانچ شامل ہوتی ہے، ضرورت پڑنے پر اضافی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے ایک کل وقتی سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو روزانہ ان کی پسند کا کھانا تیار کرتا ہے۔ انہیں قدرتی روشنی، تازہ ہوا، طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک ورزش، پسندیدہ اخبارات، کتابیں اور جیل مینوئل کے مطابق رازداری کی سہولت بھی حاصل ہے۔
علاوہ ازیں جیل قواعد کے مطابق ہر منگل کو ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کرائی جاتی ہے،فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر نے 10 فروری کو بانی پی ٹی آئی کے سیل اور رہائشی حالات کا معائنہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں ان کی حراست اور رہائشی حالات کو مناسب اور اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قیدِ تنہائی کا کوئی عنصر موجود نہیں۔
مزید برآں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار علیمہ خانم کے الزامات محض قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست کو مسترد کیا جائے۔
