(لاہور نیوز) قومی احتساب بیورو نے سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2 ہزار 452 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کر لی۔
نیب کے اعلامیے کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں مجموعی براہ راست اور بالواسطہ ریکوریز 5 ہزار 414 ارب روپے (5.41 ٹریلین روپے) تک پہنچ گئیں، جو ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی ششماہی ریکوری قرار دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق نیب سکھر نے سب سے زیادہ کارکردگی دکھاتے ہوئے بورڈ آف ریونیو سندھ اور محکمہ جنگلات کے تعاون سے این ایچ اے، جنگلات اور آبپاشی محکموں کی 8 لاکھ 53 ہزار 678 ایکڑ اراضی (مالیت ایک اعشاریہ صفر ایک ٹریلین روپے) بازیاب کرا کر صوبائی حکومت کے نام منتقل کی۔
نیب بلوچستان نے کوسٹل ہائی وے، گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی آئی ای ڈی اے) اور ہنگول نیشنل پارک سمیت 2 لاکھ 9 ہزار 544 ایکڑ اراضی، مالیت 604 ارب 64 کروڑ روپے، واگزار کرائی۔
اسی طرح نیب کراچی نے 11 ہزار 422 ایکڑ سرکاری زمین، مالیت 467 ارب 11 کروڑ روپے، غیر قانونی الاٹمنٹ اور مشکوک لیز سے واپس حاصل کی۔
نیب لاہور نے ایک ہزار 909 ایکڑ اراضی، مالیت 288 ارب 29 کروڑ روپے، نیب اسلام آباد، راولپنڈی نے سی ڈی اے کے 810 ایکڑ فلاحی پلاٹس، مالیت 66 ارب 63 کروڑ روپے جبکہ نیب ملتان نے 920 ایکڑ سرکاری زمین، مالیت 2 ارب 76 کروڑ روپے، واگزار کرائی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ ہاؤسنگ اور مالیاتی فراڈ کے مقدمات میں 24 ہزار 365 سے زائد متاثرین کو 42 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خورد برد شدہ رقوم اور اثاثے واپس دلائے گئے۔
نیب نے بتایا کہ ادارہ مکمل طور پر کاغذی کارروائی سے پاک ای آفس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام کی جانب منتقل ہو گیا ہے، جہاں مشین لرننگ کی مدد سے پیچیدہ مقدمات کے تجزیے، شواہد کی جانچ اور تفتیش کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کو بھی سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر مکمل فعال کر دیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق مارچ 2023 سے جون 2026 تک مجموعی طور پر 16 ہزار 938 ارب روپے (16.94 ٹریلین روپے) کی ریکوری کی جا چکی ہے جبکہ ادارہ بدعنوانی کے خاتمے، ریاستی اثاثوں کی بازیابی اور شفاف و جوابدہ نظامِ حکمرانی کے قیام کے لیے اپنی مہم جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
