اپ ڈیٹس
  • 245.00 انڈے فی درجن
  • 338.00 زندہ مرغی
  • 490.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.00 قیمت فروخت : 41.08
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.85 قیمت فروخت : 278.35
  • یورو قیمت خرید: 317.83 قیمت فروخت : 318.40
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 374.15 قیمت فروخت : 374.82
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.00 قیمت فروخت : 194.35
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.95 قیمت فروخت : 198.30
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.71 قیمت فروخت : 1.71
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.00 قیمت فروخت : 74.13
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.65 قیمت فروخت : 75.79
  • کویتی دینار قیمت خرید: 902.99 قیمت فروخت : 904.61
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 433500 دس گرام : 371656
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

معاہدے پر بطور گواہ دستخط کرنا جعلسازی کا ثبوت نہیں: لاہور ہائیکورٹ

18 Jul 2026
18 Jul 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی فراڈ کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف کسی معاہدے پر دستخط کرنا یا بطور گواہ موجود ہونا جعلسازی یا فراڈ کا ثبوت نہیں بنتا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے انصار علی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دھوکہ دہی ثابت کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ ملزم کی ابتدا ہی سے بدنیتی موجود تھی۔

ملزمان کے خلاف لاہور کے تھانہ ہربنس پورہ میں فراڈ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔ مدعی کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے خود کو پراپرٹی ڈیلر ظاہر کرتے ہوئے ایک جعلی مالک سے پلاٹ کا سودا کروایا، جس کے لیے 64 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ مدعی کے مطابق بعد میں پلاٹ کے اصل دعوے دار کے سامنے آنے پر اسے نقصان ہوا جبکہ پلاٹ کی تعمیر پر بھی 40 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف پراپرٹی ڈیلر ہونا فراڈ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ملزمان کی بدنیتی ثابت ہو۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ پلاٹ کی خرید و فروخت مدعی اور مالک کے درمیان ہوئی، انہوں نے کوئی رقم وصول نہیں کی بلکہ صرف بطور گواہ معاہدے پر دستخط کیے۔

عدالت نے کہا کہ رقم کی ادائیگی کے وقت کی ویڈیوز میں ملزمان کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، تاہم ان تصاویر یا ویڈیوز سے صرف رقم گننے کا عمل ثابت ہوتا ہے، فراڈ یا جعلسازی کے علم کا ثبوت نہیں ملتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جعلی دستاویزات کی تیاری یا ان کے حصول میں ملزمان کا کردار بادی النظر میں ثابت نہیں ہوا، صرف یہ الزام کہ رقم ملزمان کے دفتر میں ادا ہوئی، گرفتاری کے لیے کافی نہیں ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ملزمان کی گرفتاری سے تحقیقات کا کوئی مؤثر مقصد پورا نہیں ہوگا، لہٰذا دونوں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض کنفرم کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے