یومِ عاشور: پنجاب بھر میں تھری ٹیئر سکیورٹی پلان کے تحت ایک لاکھ پولیس اہلکار تعینات
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یومِ عاشور کے موقع پر صوبے بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے نئے تھری ٹیئر انتظامی اور سکیورٹی ماڈل پر عمل درآمد کیا گیا، عزاداران کو فول پروف سکیورٹی اور ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرونز، باڈی کیمز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سکیورٹی پلان کے تحت گزشتہ آٹھ روز سے صوبے بھر میں مجالس اور جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پہلی مرتبہ انتظامیہ کے ساتھ صوبائی کابینہ اور وزراء بھی فیلڈ میں موجود رہ کر انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
صوبے بھر میں 47 ہزار سے زائد مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار، پاک فوج کی 61 اور رینجرز کی 76 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، 30 ہزار سے زائد تربیت یافتہ رضاکار بھی سکیورٹی اداروں کی معاونت کر رہے ہیں۔
محکمہ داخلہ میں قائم صوبائی انٹیلی جنس سینٹر چوبیس گھنٹے فعال ہے، جہاں ڈیجیٹل وال کے ذریعے تمام مجالس اور جلوسوں کی لائیو سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ صفائی، طبی سہولیات، سبیلوں، کلینک آن ویلز، فیلڈ ہسپتال، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر امدادی ادارے بھی عزاداروں کی خدمت کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں۔
حکومت پنجاب کے مطابق پہلی مرتبہ صوبے کی تقریباً پانچ ہزار امام بارگاہوں کو کیو آر کوڈ سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے، نیٹ ورک کی ممکنہ بندش کے دوران رابطہ برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت نے اپنا ایل ٹی ای نیٹ ورک بھی متعارف کرایا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں، سیف سٹی سسٹم، نجی کیمروں اور ایک ہزار سے زائد جدید فور جی ایونٹ کیمروں کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ جاری ہے، اب تک 43 ٹارگٹڈ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت پنجاب کے مطابق نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ مواد کی روک تھام کے لیے سائبر پیٹرولنگ جاری ہے اور چھ ہزار سے زائد قابل اعتراض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مواد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ کی شہادت پوری امت کا غم ہے، اس مقدس موقع پر سکیورٹی اور عوامی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، انہوں نے جلوسوں اور مجالس کے منتظمین، عزاداران اور متعلقہ اداروں کے تعاون کو بھی سراہا۔
