اپ ڈیٹس
  • 217.00 انڈے فی درجن
  • 298.00 زندہ مرغی
  • 432.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.02 قیمت فروخت : 41.09
  • یورو قیمت خرید: 318.60 قیمت فروخت : 319.18
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 366.76 قیمت فروخت : 367.42
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.78 قیمت فروخت : 195.13
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.04 قیمت فروخت : 196.39
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.72 قیمت فروخت : 1.72
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.74 قیمت فروخت : 75.88
  • کویتی دینار قیمت خرید: 904.55 قیمت فروخت : 906.18
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

نادرا کی اپیل منظور، ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحالی کے فیصلے کالعدم قرار

24 Jun 2026
24 Jun 2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے عدالت نے ٹرائل کورٹ کا شناختی کارڈ بحال کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی اپیل منظور کرلی۔

عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں شہریت سے متعلق مقدمات کو نمٹاتے ہوئے قومی سلامتی کے معاملات کو بھی مد نظر رکھیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے دو شہریوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلہ کے خلاف نادرا کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے شخص پر عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے متعلقہ شخص کو اپنے والد اور دادا کی پاکستانی شہریت کے شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 1979 سے پہلے کا سرکاری ریکارڈ شہریت کے تعین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جبکہ پیدائش سرٹیفکیٹ، پرانا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد سمیت دیگر دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں دعویدار 1979 سے پہلے کا کوئی قابلِ اعتماد سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کر سکے۔

فیصلے میں نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی کی رپورٹس کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ شہریت کے معاملات محض شناختی کارڈ کا نہیں بلکہ قانونی حیثیت کا سوال ہیں اور یہ تنازعات پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ اور نادرا قوانین کے تحت طے ہوں گے۔ فیصلے کے مطابق ایسے معاملات میں براہ راست سول دعویٰ قابلِ سماعت نہیں جب متبادل قانونی فورمز موجود ہوں اور پہلے نادرا کے قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازم ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نادرا ویری فکیشن بورڈ اور وفاقی حکومت کے متعلقہ فورمز سے رجوع کیے بغیر نہ سول دعویٰ اور نہ ہی رٹ پٹیشن قابلِ سماعت ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد کے مطابق متاثرہ افراد خالد خان اور عطاء اللہ کے شناختی کارڈ مشکوک شہریت کی بنیاد پر بلاک کیے گئے تھے اور ان کے خاندان کو مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی نے غیر ملکی قرار دیا تھا، جبکہ سپیشل برانچ، آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس میں بھی پاکستانی شہریت ثابت نہیں ہو سکی تھی۔

عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ متاثرہ افراد 30 روز کے اندر نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کریں، جبکہ بورڈ 60 روز کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے