قومی اسمبلی: بجٹ پر بحث مکمل، حکومت، اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ
(لاہور نیوز) قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان سیاسی، عدالتی اور انتخابی امور پر گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔
اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی نے 407 کھرب 41 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دے دی۔
قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں تاہم وزیراعظم کی تبدیلی کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو مؤثر انداز میں آگے لے کر جا رہے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی ہے اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن چنگیز احمد خان نے عدلیہ، الیکشن کمیشن اور بجٹ سے متعلق مختلف نکات اٹھاتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور سیاسی استحکام کے لیے پارلیمان کے کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
جواب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف عقیل ملک نے کہا کہ اپوزیشن نے سنجیدہ تجاویز دینے کے بجائے سیاسی بیانیے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی پارلیمان کا آئینی اختیار ہے اور عدلیہ پر غیر ضروری تنقید قابل افسوس ہے، ان کے مطابق عدالتیں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں، ججز کے طرز عمل پر پارلیمان میں بحث آئینی حدود کے منافی ہے۔
عقیل ملک نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے نتیجے میں میرٹ پر ججز کی تقرری ممکن ہوئی ہے اور قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی سمیت تمام معاملات قانون کے مطابق انجام دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ فرد واحد کے بجائے قومی مسائل اور عوامی مفادات پر توجہ دے۔
بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کو پارلیمان کے اختیارات کی بحالی اور ججز کی تقرری کے عمل میں پارلیمانی کردار مضبوط بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر رہا ہے اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی معاملات، سلامتی، کشمیر اور جمہوری استحکام کے لیے سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق حکومت آج بھی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے مختلف مطالبات پر پیش رفت کی اور متعدد معاملات میں مفاہمت کی کوششیں کیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر دوبارہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ امن، ترقی اور استحکام کا راستہ پارلیمان سے ہی نکلے گا۔
اجلاس کے اختتام پر قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
