(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے اراضی سے متعلق پرانے اور پیچیدہ قانونی نظام کے خاتمے کیلئے 66 سال پرانے کنسولیڈیشن آف ہولڈنگز آرڈیننس کو ختم کر کے نیا ریپیل ایکٹ نافذ کر دیا۔
نئے قانون کے تحت زیر التوا کنسولیڈیشن سکیموں کو 180 روز کے اندر مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، مقررہ مدت کے بعد نامکمل رہ جانے والے کیسز کو پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت نمٹایا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق حکومت کو اراضی کے معاملات میں ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے اور نئی ہدایات جاری کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، اس اقدام سے اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، دیرینہ تنازعات کے خاتمے اور ریونیو نظام میں شفافیت لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم کے بعد زمینوں کی کنسولیڈیشن کا پرانا اور سست قانونی نظام ختم ہو جائے گا جبکہ برسوں سے زیر التوا سکیموں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا لازمی ہو گا، اراضی ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا عمل بھی تیز کیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق اس اقدام سے قبضوں، تقسیم اراضی اور ملکیتی تنازعات کے حل میں تاخیر کم ہو گی، کسانوں اور زمین مالکان کو ریکارڈ کی درستی، انتقالات اور دیگر ریونیو خدمات تک آسان اور تیز رسائی حاصل ہو سکے گی، حکومت کو امید ہے کہ نئے نظام سے اراضی کے انتظام و انصرام میں بہتری اور عوامی سہولت میں اضافہ ہو گا۔
