(لاہور نیوز) پنجاب میں پہلی بار سیاحت کے شعبے کو منظم کرنے کیلئے ٹورازم اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔
ٹورازم انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی گئی، چکوال، راجن پور، قصور اور مری کے سیاحتی مقامات کی اپ گریڈیشن پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے۔ چھانگا مانگا اور چشمہ میں سیاحتی ترقیاتی منصوبے 8 ارب 71 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری کیے گئے۔
رواں مالی سال سیاحتی منصوبوں پر 5 ارب 55 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔چھانگا مانگا، اُچھالی اور چشمہ میں ایکو ٹورازم کے فروغ کیلئے بڑے منصوبے جاری ہوئے، ایکو ٹورازم منصوبوں کیلئے آئندہ مالی سال میں ایک ارب 20 کروڑ روپے مختص ہوئے۔
مری میں بنسرا گلی زولوجیکل گارڈن 3 ارب 92 کروڑ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہے، بنسرا گلی زولوجیکل گارڈن کیلئے آئندہ مالی سال 60 کروڑ روپے تجویزہے، سفاری زو لاہور ماسٹر پلان پر 7 ارب روپے کی لاگت سے عمل درآمد جاری ہے۔
ٹیکسلا ہیرٹیج سائٹ کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن پر 4 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ کے اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت 471 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، سرکاری شعبے سے 171 ارب اور نجی شعبے سے 300 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔
لاہور ہیرٹیج پراجیکٹ 31 ارب روپے کی لاگت سے شروع کرنے کی تجویز ہے نارتھ پوٹھوہار ایکو ٹورازم منصوبہ 42 ارب روپے کی لاگت سے بجٹ کا حصہ۔ریلیجس ٹریل پنجاب منصوبہ 20 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا۔لاہور میوزیم کے نئے بلاک کی تعمیر پر 8 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
والڈ سٹی آف راولپنڈی پراجیکٹ کیلئے 5 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، سی ایم لاہور ہیرٹیج ریوائیول پروگرام فیز ٹو 12 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہوگا۔پنجاب میں ڈیسٹینیشن اکانومی انیشی ایٹو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ 171 ارب روپے کی لاگت سے صوبہ بھر میں 8 سیاحتی سرکٹس قائم کیے جائیں گے۔
لاہور، مذہبی سیاحت، پوٹھوہار، سالٹ رینج، چولستان اور جنوبی پنجاب سرکٹس منصوبے کا حصہ ہے ۔ سیاحتی منصوبوں سے سالانہ 450 ارب روپے تک معاشی سرگرمی پیدا ہونے کی توقع ہے ۔ پنجاب میں 18 سے 30 ملین سیاحوں کی آمد متوقع ہے ۔ سیاحت کے شعبے میں 300 ارب روپے تک نجی سرمایہ کاری متحرک ہونے کا امکان ہے۔
