اپ ڈیٹس
  • 200.00 انڈے فی درجن
  • 271.00 زندہ مرغی
  • 392.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.06 قیمت فروخت : 41.13
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.25 قیمت فروخت : 278.75
  • یورو قیمت خرید: 321.33 قیمت فروخت : 321.91
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 372.46 قیمت فروخت : 373.13
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 199.49 قیمت فروخت : 199.85
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.11 قیمت فروخت : 74.24
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.76 قیمت فروخت : 75.90
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.76 قیمت فروخت : 907.39
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 430100 دس گرام : 368800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 394255 دس گرام : 338064
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6767 دس گرام : 5808
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تفریح

سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے: ثانیہ سعید

13 Jun 2026
13 Jun 2026

(ویب ڈیسک) پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے، پروڈکشن کی وجہ سے مقروض ہوگئی ہوں، قرضہ اترے گا تو پروڈکشن کا کام پھر سے شروع کروں گی۔

سینئر اداکارہ نے کہا میرے نانا جیل میں ہوتے تو نانی گھر کا نظام چلاتی تھیں، میری والدہ کو بھی نانی نے پڑھایا، فلمیں بننا شروع ہوگئیں، لیکن لگائیں گے کہاں؟ ملک میں سنیما گھر تو موجود ہی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا آج بھی کرائے کے گھر میں رہتی ہوں، شہزاد رائے بہت اچھا سماجی کام کر رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثانیہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آزاد فلم سازی کو زیادہ سپورٹ دینے کی ضرورت ہے اور ایسے بیانیے سامنے لانے چاہئیں جو معاشرے کی حقیقی عکاسی کریں، نہ کہ صرف تجارتی کامیابی کے پیچھے بھاگیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سنیما کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کتنا متنوع اور سماجی طور پر متعلقہ مواد پیش کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور غیر روایتی فلمیں آج بھی کئی مشکلات کا شکار ہیں، خاص طور پر ڈسٹری بیوشن اور اسکرینز تک رسائی کے حوالے سے۔

ان کے مطابق اکثر اہم فلمیں مالی اور ادارہ جاتی سپورٹ نہ ہونے کے باعث محدود رہ جاتی ہیں۔ "فلموں کی پروڈکشن اور پروموشن کے روایتی طریقے ہر پروجیکٹ پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔"

انہوں نے کہا بہت سی اہم فلمیں ذاتی جذبے اور قربانی سے بنتی ہیں کیونکہ ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان ان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ شہروں کی شناخت صرف انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ وہاں کی ثقافت، فن اور کہانیوں سے بھی بنتی ہے۔

ان کے مطابق سنیما معاشرتی حقیقتوں کو ریکارڈ کرنے اور مکالمہ پیدا کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے دوران شدید دباؤ اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔

انڈسٹری میں عمر کے حوالے سے امتیاز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ سینئر اداکاروں کا نہیں بلکہ کہانیوں کے محدود ہونے کا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر عمر کی کہانیاں اب اسکرین پر نہیں دکھائی جاتیں۔ ثانیہ کا کہنا تھا کہ جب انڈسٹری مکمل طور پر کمرشل ہوجاتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کاسٹنگ میں فالوورز کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، تاہم مقبولیت اداکاری کا متبادل نہیں ہو سکتی، کیمرہ بہت سچا اور سخت ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے