(لاہور نیوز) پاکستان میں فلم سنسرشپ کے نظام میں بڑی تبدیلی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت موجودہ سنسر بورڈ کو ختم کر کے نیا ادارہ “فیڈرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن” قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، یہ بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق نیا نظام صرف اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں تک محدود ہوگا۔ نئے بورڈ میں مجموعی طور پر 15 ارکان شامل ہوں گے، جن میں ایک گریڈ 21 کا سرکاری افسر چیئرپرسن ہوگا۔
بل کے مطابق بورڈ میں 6 سرکاری افسر اور 7 پرائیویٹ ارکان شامل ہوں گے، جبکہ پرائیویٹ ارکان کا تعلق میڈیا، قانون، آرٹس، سماجی اور سول سوسائٹی سے ہوگا۔ بورڈ میں کم از کم دو خواتین ارکان کی شمولیت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔
پرائیویٹ ارکان کی تعیناتی وزیر اطلاعات کریں گے، جن کی مدت تین سال ہوگی اور ایک بار توسیع بھی ممکن ہوگی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کو ہی فلم سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر معیاری یا غیر اخلاقی مواد کو ضلعی یا کنٹونمنٹ انتظامیہ تحویل میں لے سکے گی، جبکہ پابندی کے خلاف اپیل کے لیے ایک اپیلیٹ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں وزرائے اطلاعات، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹری شامل ہوں گے۔
مزید یہ کہ کالعدم قرار دیا گیا مواد انٹرنیٹ پر بھی جاری نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ خلاف ورزی پر جرمانے کی حد 10 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے تک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
