(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پراپرٹی کے قبضے دلوانے سے متعلق معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر عدالت اپنے احکامات پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو پورا نظام ختم ہو جائے گا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے محمد یار کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر حافظ آباد عبدالرزاق عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزار کو پراپرٹی سے دستبردار ہونے پر مجبور کر رہے ہیں جو غیر قانونی اقدام ہے لہذا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سماعت کے دوران ڈی سی حافظ آباد عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ڈی سی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے درخواست گزار کو قبضہ چھوڑنے کا کہا؟ جس پر ڈی سی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا، عدالت نے درخواست گزار سے بھی پوچھا کہ انہیں قبضہ چھوڑنے کا کس نے کہا، جس پر انہوں نے بتایا کہ ڈی سی کے ریڈر نے انہیں فون کر کے بلایا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر نے قبضہ چھوڑنے کا کہا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری افسران کس طرح عدالتی احکامات کو نظر انداز کر سکتے ہیں، اگر ایسا ہوتا رہا تو ان کی نوکری بھی جا سکتی ہے، عدالت نے درخواست گزار کے بیانات میں تضاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ کوئی عدالت کے سامنے غلط بیانی نہ کرے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل ان پڑھ ہے اور عدالتی معاملات کی نزاکت کو پوری طرح نہیں سمجھتا، اس لئے اسے جرمانہ نہ کیا جائے۔
دوران سماعت درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی، عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
