(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے آئی ایم ایف کے قرضے کے خلاف سول نظرثانی درخواست خارج کر دی۔
جسٹس عاصم حفیظ نے ایڈووکیٹ طالب حسین میکن کی سول نظرثانی درخواست کا فیصلہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ قرض کا انتظام پاکستان کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہے، ریکارڈ کے مطابق آئی ایم ایف نے درخواست گزار یا کسی بھی پاکستانی شہری سے انفرادی طور پر قرض کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، سول نظرثانی اُن متفقہ عدالتی فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی ہے جن کے ذریعے دعویٰ کو مسترد کیا گیا تھا، اس کے بعد دائر کی گئی اپیل بھی خارج کر دی گئی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمہ دائر کرنے کی بنیاد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ معلومات کو بنایا گیا، پاکستان کا ہر شہری ریاست کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (IMF) سے لئے گئے قرض کے باعث مقروض ہے اور ہر پاکستانی شہری آئی ایم ایف کے قرض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کے شہریوں نے خود کوئی قرض حاصل نہیں کیا، لہٰذا وہ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرض کی واپسی کے پابند نہیں ہیں۔
فیصلے کے مطابق عدالت ایسا کوئی معقول اور قائل کرنے والا جواز نہیں پاتی جس کی بنیاد پر ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے، قانونی ذمہ داری کے حوالے سے براہِ راست تعلق نہ ہونے کی وجہ سے یہ دعویٰ قانوناً قابلِ سماعت نہیں تھا، عدالت کو سول نظرثانی میں کوئی ایسی غیرقانونی بات نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر اس کی سماعت کی جائے۔
