(ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو عالمی مارکیٹ کے تناسب سے مکمل ریلیف فراہم نہ کیا جا سکا۔
حکومت نے مختلف پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کے بجائے شرح برقرار رکھی جبکہ ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کر دیا گیا۔
دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 80 پیسے فی لٹر تک کمی بنتی تھی لیکن حکومت نے ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کم کرنے کے بجائے اسے 52 روپے فی لٹر سے بڑھا کر 58 روپے فی لٹر کر دیا۔
اس اضافے کے باعث صارفین کو ڈیزل کی قیمت میں ممکنہ مکمل کمی کا فائدہ منتقل نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق ڈیزل زرعی شعبے، ٹرانسپورٹ، مال برداری اور صنعتی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لئے ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اثر براہ راست اشیائے ضروریہ، کرایوں اور پیداواری لاگت پر پڑ سکتا تھا، تاہم لیوی میں اضافے کے بعد عوام کو محدود ریلیف ہی مل سکا۔
دوسری جانب پٹرول پر لیوی کی شرح 102 روپے 17 پیسے فی لٹر برقرار رکھی گئی ہے، اسی طرح مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لٹر مقرر ہے جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر کاربن سپورٹ لیوی کی شرح 2 روپے 50 پیسے فی لٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
