اپ ڈیٹس
  • 246.00 انڈے فی درجن
  • 373.00 زندہ مرغی
  • 540.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.77 قیمت فروخت : 40.84
  • یورو قیمت خرید: 325.58 قیمت فروخت : 326.16
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 375.26 قیمت فروخت : 375.94
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 198.55 قیمت فروخت : 198.91
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.38 قیمت فروخت : 203.74
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.74 قیمت فروخت : 1.75
  • کویتی دینار قیمت خرید: 909.31 قیمت فروخت : 910.94
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 493100 دس گرام : 422800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 452005 دس گرام : 387564
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 7944 دس گرام : 6818
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
صحت

پنجاب میں بنیادی صحت کے نظام میں نمایاں بہتری، ورلڈ بینک امدادی مشن کا اصلاحات کا اعتراف

25 Apr 2026
25 Apr 2026

(لاہور نیوز) ایڈیشنل سیکرٹری (انتظامی امور ) محکمہ صحت و آبادی و پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پنجاب محمد اشرف کی زیر صدارت ورلڈ بینک اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے امدادی مشن برائے عملدرآمدی کا مشترکہ اجلاس ، جس میں پنجاب میں جاری بنیادی صحت کے شعبے میں اصلاحات میں پروگرام کی طرف سے فراہم کی جانی والی تکنیکی اور مالی معاونت کا تفصلی جائزہ لیا گیا۔

مشن کی سربراہی  ولڈ بینک  کے ٹاسک ٹیم لیڈر وسینئر ماہرمعاشیات صحت  جہانزیب سہیل کر رہے تھے جبکہ  گلوبل  فنڈ، جی ایف ایف، ایس سی ڈی او ، گاوی ای فارایچ اور  گیٹس فاؤنڈیشن کے نمائندگان  بھی شر یک تھے  ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام پنجاب ایک ایسا پروگرام ہے جس کی بنیادی توجہ ابتدائی طبی سہولیات کی مضبوطی پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت و آبادی، حکومت پنجاب، صوبے بھر میں بنیادی صحت کے نظام کو مستحکم بنانے اور طبی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام ان اصلاحات کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،عالمی بینک کے مشن نے مختلف اقدامات، اصلاحات اور نظام میں تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جن کا مقصد صوبے بھر میں معیاری اور مساوی طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

          اس موقع پر کیپٹن (ریٹائرڈ) عثمان علی نے پنجاب میں بنیادی صحت کے نظام کے ارتقاء اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے صحت سے متعلق اقدامات کے تحت جاری اصلاحاتی ایجنڈے پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے صحت کی سہولیات میں اصلاحات اور آؤٹ سورسنگ سے پہلے اور بعد کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ کارکردگی پر مبنی نظام کے نفاذ کے بعد نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا جو صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

           اس موقع پر مختلف  پروگرامز  کے سربراہان جن میں ٹی بی  پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام، ڈائریکٹر ہیلتھ انفارمیشن اینڈ ڈیلیوری یونٹ  ، آڈٹ و اصلاحات اور مریم نواز ہیلتھ کلینک  نے اپنے  اپنے رواں مالی  سال  کے اہداف کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

ان بریفنگز میں بنیادی صحت کے مراکز کی استعداد بڑھانے، ڈیجیٹل نظام کے فروغ اور شفافیت و احتساب کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس اصلاح کے تحت تمام طبی عملے کو تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ ریفرل کے طریقہ کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ زچگی اور بچوں سے متعلق ہنگامی کیسز کو بنیادی مراکز صحت سے ثانوی اور اعلیٰ طبی مراکز تک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

          اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ کمیونٹی سطح پر خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ماڈل کو فروغ دیا جا رہا ہے، خصوصاً پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں۔ اس ماڈل کے تحت حفاظتی صحت، خاندانی منصوبہ بندی، حفاظتی ٹیکہ جات، تپ دق اور دیگر ضروری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔

اسی تناظر میں نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے صحت اقدامات کی معاونت کرتے ہوئے صوبہ بھر میں طبی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے اور بنیادی صحت کی معیاری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اہم اقدامات میں فیلڈ ہسپتالز اور کلینکس آن ویلز شامل ہیں جن کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی بڑھائی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں دیہی مراکز صحت میں لیول ون نرسریوں کا قیام نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نومولود پیچیدگیوں کے بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے گا اور قابلِ تدارک شرح اموات میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

          نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے تحت دیہی مراکز صحت میں تپ دق، ہیپاٹائٹس، ایچ آئی وی اور غیر متعدی امراض کی سکریننگ کے لیے خصوصی ونڈوز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ بنیادی مراکز صحت میں سکریننگ کیمپ بھی لگائے  جائیں گے تاکہ ممکنہ مریضوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

مزید برآں، صوبے کے تمام 36 اضلاع میں پیدائش کے اندراج کے نظام کو مؤثر بنایا گیا ہے اور ہر پیدائش کو نادرا کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔

عالمی بینک کے ٹاسک ٹیم لیڈر جہانزیب سہیل اور دیگر شراکت داروں نے محکمہ صحت پنجاب کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے بنیادی صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری کو قابل تحسین قرار دیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (آڈٹ و اصلاحات) عدنان شہزاد، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹرخالد محمود ، پروگرام ڈائریکٹر حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر نوید اختر، ڈپٹی پروگرام ڈائریکٹر پنجاب فیملی پلاننگ  پروگرام کیپٹن (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عثمان علی خان، پروگرام ڈائریکٹر ٹی بی  ڈاکٹر طلحہ شیروانی، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ انفارمیشن اینڈ ڈیلیوری یونٹ  خالد شریف، ایڈیشنل  پروگرام مریم نواز ہیلتھ کلینک  ڈاکٹر فرخ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے اراکین، عالمی بینک کے صوبائی تکنیکی سربراہ ڈاکٹر علی مرزا اور دیگر شراکت دار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے