(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے اراضی کی تقسیم کے تنازع میں بورڈ آف ریونیو پنجاب کے تین رکنی فل بورڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ بورڈ آف ریونیو کے ارکان کے درمیان اختلاف کی صورت میں قانون کے مطابق اختلافی نکات واضح کرنا لازمی ہے، اس کے بغیر بڑے بینچ کے سامنے پورے مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں کی جاسکتی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جاوید اقبال وینس نے سخاوت علی کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، درخواست گزار نے بورڈ آف ریونیو پنجاب کے فل بورڈ نمبر ون کے 28 جنوری 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس کے ذریعے پہلے سے ہونے والی اراضی کی تقسیم کے احکامات منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ تقسیم کے لیے بھجوا دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تنازع مشترکہ اراضی کی تقسیم سے متعلق تھا، جس میں درخواست گزار نے کھیوٹ کے کِلہ نمبر 10/1 میں 8 مرلے زمین رجسٹرڈ بیع نامے کے ذریعے خریدی تھی۔
درخواست گزار کے مطابق اس نے زمین پر مستقل رہائشی مکان بھی تعمیر کر رکھا تھا، تحصیلدار سنگلا ہل نے 18 مئی 2022 کو اراضی کی تقسیم کا حکم جاری کیا، جس کے خلاف اپیل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ننکانہ صاحب نے یکم دسمبر 2022 کو خارج کردی تھی۔
بعد ازاں معاملہ بورڈ آف ریونیو پہنچا جہاں ممبر جوڈیشل ٹو نے 26 اکتوبر 2023 کو پہلے دونوں احکامات بحال کردیے، تاہم مخالف فریق کی نظرثانی درخواست پر بورڈ آف ریونیو کے تین رکنی فل بورڈ نے 28 جنوری 2026 کو سابقہ فیصلے منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ تقسیم کے لیے بھجوا دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بورڈ آف ریونیو نے قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر تین رکنی فل بورڈ تشکیل دے کر نظرثانی درخواست منظور کی، حالانکہ پہلے دو رکنی فل بورڈ کے ایک رکن نے 25 مارچ 2024 کو نظرثانی درخواست خارج کرنے کی رائے تحریر کردی تھی۔
دوسرے رکن نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کسی واضح اختلافی نکتے کی نشاندہی کیے بغیر معاملہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھجوا دیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب بورڈ آف ریونیو ایکٹ 1957 کی دفعہ 6(3)(b) کے تحت جب بورڈ کے ارکان کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف ہو تو انہیں پہلے ان نکات کی واضح نشاندہی کرنا ہوتی ہے جن پر اختلاف ہے، اس کے بعد انہی نکات پر پہلے سماعت کرنے والے ارکان اور ایک اضافی رکن کے ذریعے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانون کا مقصد پورے مقدمے کی غیر محدود دوبارہ سماعت نہیں بلکہ صرف ان مخصوص نکات کا فیصلہ کرنا ہے جن پر ارکان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہو، محض زیادہ ارکان پر مشتمل فل بورڈ تشکیل دینے سے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوجاتے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی رکن کی ریٹائرمنٹ بھی قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کرنے کا جواز نہیں بن سکتی، انتظامی اختیار کے تحت مقدمہ کسی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا اختیار قانون میں طے شدہ عدالتی طریقہ کار تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے بورڈ آف ریونیو پنجاب کا 28 جنوری 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مخالف فریق کی نظرثانی درخواست دوبارہ بحال کردی، عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو حکم دیا ہے کہ نظرثانی درخواست قانون کے مطابق نئے دو رکنی فل بورڈ کے سامنے مقرر کی جائے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرکے سماعت کا مناسب موقع دیا جائے اور وجوہات پر مشتمل تحریری فیصلہ قانون کے مطابق ترجیحاً 90 روز میں جاری کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا ہے کہ جب کسی قانونی فورم کے ارکان کے درمیان اختلاف ہو تو اختلاف کے مخصوص نکات تحریری طور پر طے کرنا ضروری ہے، ان نکات کی نشاندہی کے بغیر نیا بڑا بینچ بنا کر پورے مقدمے کا ازسرنو فیصلہ کرنا قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔
