اپ ڈیٹس
  • 267.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 534.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

بینک ملازم گریجویٹی سے قرض ادا کرنے پر بینک کو مجبور نہیں کرسکتا: لاہور ہائیکورٹ

24 Oct 2026
24 Oct 2026

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے بینک کے سابق ملازم کے تقریباً 15 لاکھ روپے کے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر واجبات سے قرض کی رقم منہا کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ملازم بینک کو ان واجبات سے قرض کی ادائیگی پر مجبور نہیں کرسکتا، عدالت نے نجی بینک کے حق میں قرض کی وصولی سے متعلق فیصلہ بھی برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گل حسن خان اور دیگر کی نجی بینک کے خلاف اپیل پر فیصلہ جاری کیا، دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس محمد عثمان غنی راشد چیمہ نے تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ بینک کے سابق ملازم کے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر ملازمتی واجبات کی مد میں تقریباً 15 لاکھ روپے بینک کے پاس موجود تھے، بینک قرض کی بقایا رقم وصول کرنے سے پہلے ان واجبات میں سے قرض کی رقم منہا کرے اور باقی رقم ادا کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ بینک کے پاس ملازم کی رقم موجود ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بینک لازماً اسی رقم سے قرض کی ادائیگی کرے، ملازمتی واجبات کی ادائیگی اور قرض کی وصولی دو الگ قانونی معاملات ہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بعض قانونی شرائط پوری ہونے پر بینک اپنے صارف کے ایک اکاؤنٹ میں موجود رقم دوسرے اکاؤنٹ کے قرض کے مقابل ایڈجسٹ کرسکتا ہے، تاہم یہ بینک کا اختیار ہے، قانونی مجبوری نہیں، صارف عدالت کے ذریعے بھی بینک کو اس اختیار کے استعمال پر مجبور نہیں کرسکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور دیگر ملازمتی واجبات بینک کے پاس آجر کی حیثیت سے ہوتے ہیں، نہ کہ بینکار کی حیثیت سے، ان واجبات کی ادائیگی میں تاخیر یا عدم ادائیگی کی شکایت کے لیے متعلقہ مجاز فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے، جبکہ بینکنگ کورٹ قرض کی وصولی سے متعلق معاملات کی سماعت کرتی ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر کوئی ملازم اسی بینک سے قرض حاصل کرتا ہے جہاں وہ ملازمت کرتا ہے تو وہ بینک کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ اس کے پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی یا دیگر ملازمتی واجبات سے قرض کی رقم کاٹ لی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بینکنگ کورٹ نے نجی بینک کے حق میں 10 لاکھ 17 ہزار 705 روپے کی ڈگری جاری کرکے کوئی قانونی غلطی نہیں کی، عدالت نے سابق ملازم اور دیگر اپیل کنندگان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرض کی وصولی سے متعلق فیصلہ برقرار رکھا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے