اپ ڈیٹس
  • 267.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 534.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.43 قیمت فروخت : 41.50
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 276.80 قیمت فروخت : 277.30
  • یورو قیمت خرید: 310.85 قیمت فروخت : 311.41
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 369.02 قیمت فروخت : 369.69
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.37 قیمت فروخت : 193.72
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 196.58 قیمت فروخت : 196.93
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.75 قیمت فروخت : 1.75
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.81 قیمت فروخت : 73.94
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.37 قیمت فروخت : 75.51
  • کویتی دینار قیمت خرید: 898.85 قیمت فروخت : 900.47
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید ختم

22 Oct 2026
22 Oct 2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید ختم، سزا کاٹی گئی مدت تک محدود کر دی، جسٹس محمد امجد رفیق نے سزا تبدیل کرنے سے متعلق نیا قانونی نکتہ طے کر دیا۔

عدالت نے حکومت پنجاب کو حکم دیا کہ قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین کے لیے قانونی اصلاحات پر غور کیا جائے اور پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں ایسی ترامیم کی جائیں جن سے مناسب حالات میں سزا کے تعین کے دوران عدالتی صوابدید کے استعمال کی گنجائش پیدا ہوسکے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم کی جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سزا پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (ب) سے تبدیل کرکے دفعہ 302 (سی) کے تحت کردی۔

عدالت نے مقتول کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا اور عدم ادائیگی کی صورت میں 6 ماہ کی سادہ قید بھی برقرار رکھی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق واقعہ 10 جولائی 2020 کو پیش آیا، جب محمد یوسف اپنے بھتیجے ابو ہریرہ کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جی ٹی روڈ کی جانب جا رہے تھے، ریلوے لائن کے قریب موٹر سائیکلوں پر سوار لڑکوں نے انہیں روک لیا۔

ابوہریرہ کو موٹر سائیکل سے اتار کر قریبی لان میں لے جایا گیا، جہاں اس پر تشدد کیا گیا۔ اسی دوران ملزم مہر فرحان نے اس کے سر پر ہاکی کا ایک وار کیا، جس سے وہ شدید زخمی ہوکر بے ہوش ہوگیا، اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ اگلے روز دم توڑ گیا۔

جسٹس محمد امجد رفیق نے فیصلے میں قرار دیا کہ چشم دید گواہوں محمد یوسف اور میان حسنات محمود کی شہادت طبی شواہد سے مطابقت رکھتی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کے سر پر چوٹ لگنے سے کھوپڑی میں فریکچر ہوا اور دماغ کو پہنچنے والے نقصان کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔

عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد ملزم کے کردار کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ دفاع کی جانب سے مقتول کو کسی نامعلوم شخص کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا مؤقف بھی ثابت نہیں ہوسکا، عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں نامزد چار شریک ملزمان کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کرچکی ہے اور ان کی بریت کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

تفتیش کے دوران بھی قتل کی کسی باقاعدہ سازش یا پیشگی منصوبہ بندی کے حوالے سے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ فریقین کے درمیان لڑکوں کے دو گروپوں کی رقابت ضرور ظاہر ہوتی ہے، تاہم محض اس بنیاد پر قتل کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم نے اچانک تصادم کے دوران ہاکی کا ایک وار کیا اور اس پر دوبارہ وار کرنے کا الزام نہیں تھا۔ دیگر چوٹیں معمولی نوعیت کی تھیں جبکہ مقتول واقعے کے بعد تقریباً 30 سے 32 گھنٹے زندہ رہا۔

عدالت نے مقدمے کے مجموعی حالات اور سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ قتل کی پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے کے باعث سزا میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کے اطلاق کا بھی جائزہ لیا۔

عدالت کے مطابق قانون کی دفعہ 3 کے تحت ایسے جرائم اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں جن کی مقررہ سزاؤں میں سزائے موت شامل ہو، چونکہ دفعہ 302 تعزیرات پاکستان کے تحت سزائے موت بھی مقرر ہے، اس لیے عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمے میں مذکورہ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

فیصلے میں عدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین کے لیے قانونی اصلاحات پر غور کیا جائے اور پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں ایسی ترامیم کی جائیں جن سے مناسب حالات میں سزا کے تعین کے دوران عدالتی صوابدید کے استعمال کی گنجائش پیدا ہوسکے، فیصلے میں سزا مقرر کرنے سے قبل الگ سماعت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم 12 سال، 11 ماہ اور 2 دن قید گزار چکا تھا، جس میں معافیوں کا فائدہ بھی شامل تھا، عدالت نے پہلے سے کاٹی گئی قید کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سزا اسی مدت تک محدود کردی۔

تاہم مقتول کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی، عدم ادائیگی پر 6 ماہ کی سادہ قید اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کے تحت رعایت سے متعلق ٹرائل کورٹ کا حکم برقرار رکھا گیا، عدالت نے جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ واپس بھجوانے کی ہدایت کر دی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے