(لاہور نیوز) پنجاب حکومت نے خونی حادثات روکنے کیلئے کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیورز کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا۔
صوبائی دارالحکومت میں جان لیوا ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے ٹرالرز اور ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز کا ہر سال میڈیکل بورڈ سے طبی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹریفک حکام کے مطابق لاہور میں کمرشل گاڑیاں مجموعی ٹریفک حجم کا صرف 4 فیصد ہیں تاہم جان لیوا حادثات میں ان کا حصہ 44 فیصد ہے، جس کے پیش نظر کمرشل ڈرائیورز کی طبی اور نفسیاتی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سی ٹی او لاہور عبدالرحیم شیرازی نے کمرشل ڈرائیورز کے لائسنس کی تجدید کیلئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ سی آر او ریکارڈ بھی لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے۔
حکام کے مطابق ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی کلر بلائنڈنس اور نفسیاتی کیفیت کی جانچ بھی سالانہ بنیادوں پر ہو گی جبکہ بلڈ ٹیسٹ اور مکمل طبی معائنے کے بعد میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی اور مختلف بیماریوں کے باعث ڈرائیونگ کے دوران ڈرائیورز کے ہوش و حواس متاثر ہو جاتے ہیں، طبی و نفسیاتی جانچ کا مقصد حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد 82 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، ٹریکٹر ٹرالیاں مجموعی گاڑیوں کا صرف 0.7 فیصد ہیں لیکن حادثات میں ان کی شمولیت 10 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔
اسی طرح ٹرک اور ڈمپرز مجموعی گاڑیوں کا 0.6 فیصد جبکہ حادثات میں ان کا حصہ 11 فیصد، مزدا گاڑیاں مجموعی گاڑیوں کا 0.8 فیصد جبکہ حادثات میں ان کی شمولیت 8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ٹریفک حکام کے مطابق بسیں، کوسٹرز اور فلائنگ کوچز مجموعی گاڑیوں کا 0.7 فیصد ہیں جبکہ حادثات میں ان کا حصہ 7 فیصد ہے، پک اپ گاڑیاں مجموعی گاڑیوں کا 0.5 فیصد جبکہ حادثات میں ان کی شمولیت 4 فیصد رہی۔
اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا کہ ٹریلرز مجموعی گاڑیوں کا صرف 0.2 فیصد ہیں تاہم حادثات میں ان کی شمولیت 2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
