پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کرتے، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی نہیں کر سکے: میاں عامر محمود
(لاہور نیوز) چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کرتے، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی حاصل نہیں کر سکے۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروسز اکیڈمی میں زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ 2008 سے سمال ایڈمنسٹر یونٹس کے بارے میں لکھنا شروع کیا، ہم پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کرتے، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی حاصل نہیں کر سکے، 25 کروڑ عوام کی زندگی آسان بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو عوام کی خدمت کرنی چاہئے، اب تک کی تمام گفتگو میں کوئی ذاتی یا سیاسی بات نہیں کی، سوالات پوچھنے سے معاملات کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے، 1947میں ہمیں 4 صوبے دیئے گئے، پانچواں ایسٹ پاکستان تھا جو اب نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں ہم صرف چار صوبوں پر ہی بات کریں گے، پنجاب دنیا کے 182 ممالک، سندھ دنیا کے 162 ممالک، کے پی کے دنیا کے 152 ممالک، جبکہ بلوچستان دنیا کے 172 ممالک سے بڑا ہے۔
عامر محمود نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور طویل فاصلے وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزور کر رہے ہیں، دور دراز علاقوں میں دہشت گردی کے بعد انتظامیہ کو پہنچنے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔
چیئرمین دنیا میڈیا گروپ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال پر ہمیں اعداد و شمار کی طرح واضح جواب نہیں مل سکا، اصل مسائل کا جواب ہمیں جذباتی نعروں سے ملتا ہے، ملک تقسیم نہیں کریں گے کیونکہ دھرتی ماں ہوتی ہے، اس قسم کے جوابات دیئے جاتے ہیں، صوبائی حدود اور باؤنڈریز وقت کے ساتھ مسلسل بدلتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک چھوٹے انتظامی یونٹس بناتے رہے لیکن پاکستان نے اپنے پرانے صوبے برقرار رکھے، انسانی ترقی کے اشاریوں میں ہمیں ہر جگہ پیچھے ہی پایا جائے گا، ہمارے چالیس فیصد بچوں کی نشوونما ٹھیک نہیں ہو پاتی، ہم نے آج نہیں بلکہ آج سے بیس سال بعد کا مستقبل بھی خراب کر دیا ہے، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں پاکستان کا دنیا میں پہلا نمبر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دارالحکومت کے علاوہ کہیں بھی ہمارے حالات ٹھیک نہیں ہیں، گزشتہ 80 سال میں ہم نے صرف کیپیٹل سٹیز کو ڈویلپ کیا ہے، لاہور سے باہر جانے پر غربت بلوچستان جیسی نظر آئے گی۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمارے پاس پینے کیلئے صاف پانی تک میسر نہیں ہے، ہم سارا ان ٹریٹڈ سیوریج واٹر دریاؤں میں پھینک رہے ہیں اور جنوبی علاقوں میں لوگ انہی نہروں اور دریاؤں کا پانی پی رہے ہیں، بہتے ہوئے پانی کو صاف کرنے کے بجائے ہم نے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگانا شروع کر دیئے ہیں، میرے خیال سے 99.9 فیصد فلٹریشن پلانٹس فنکشنل نہیں ہیں۔
چیئرمین دنیا میڈیا گروپ کا کہنا تھا کہ بچوں کے سکول سے باہر ہونے کے حوالے سے ہم دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں، کراچی کے لوگ کہتے ہیں کہ کراچی کی حالت خراب ہے، جو شہر دارالحکومت کے قریب ہیں ان کی تعلیمی صورتحال بہتر ہے، جو کیپیٹل سے دور چلے جاتے ہیں ان کے حالات خراب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 97.2 فیصد سکولوں میں مضامین کے ماہر اساتذہ موجود نہیں، پنجاب حکومت نے تیسری جماعت سے اے آئی پڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، لاہور میں بیٹھ کر 60 سکولوں کو کنٹرول کرنا مؤثر نظام نہیں، سکولوں میں ٹیچر ریٹائر ہوتا ہے تو ہم نئی بھرتی نہیں کرتے، سکولوں میں ٹیچر ریٹائر ہوتا ہے تو ہم نئی بھرتی نہیں کرتے، سندھ نے ٹوٹل بھرتیوں کا اعلان ہی نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چوری اور ڈکیتی کے کیسز میں سو فیصد ملوث افراد کو سزا نہیں ہوتی، گاڑی چھیننے پر ایف آئی آر درج کرانے کیلئے دو گواہ چاہیے ہوں گے، ملزم جتنا خود کو بچانے کی کوشش کرے گا، ہمیں اسے انجام تک پہنچانے کیلئے اتنی ہی زیادہ محنت کرنا ہو گی، قتل کیس کا فیصلہ ہونے میں 17 سے 18 سال لگتے ہیں، ملزم اور مدعی کی فیملیز تباہ ہو جاتی ہیں، اس سسٹم کو بہتر ہماری پارلیمنٹ کرے گی۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ ہم کہتے ہیں ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے، اگر ڈویژن کی بنیاد پر انتظامی تقسیم کی جائے تو پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 8 اور اسلام آباد میں ایک صوبہ بن جائے گا، پنجاب میں گورننس بہتر ہے، فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، فیصل آباد میں ایک ڈھنگ کی یونیورسٹی، سکول اور ہسپتال نہیں ہے۔
چیئرمین دنیا میڈیا گروپ کا کہنا تھا کہ ہماری بحث صوبوں کے چھوٹے یا بڑے ہونے پر نہیں ہے، بلکہ ہم اس کا عملی اور پائیدار حل چاہتے ہیں، آپ کہتے ہیں ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘، بالکل نہ دیں، سکھر میں بچے مر رہے ہیں، ان کا بھی سوچ لیں، اگر تنقید کا رخ صرف ایک ہی صوبے کی طرف رکھا جائے گا تو پھر اسی کو ہی ہدفِ ملامت سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جو اپنا شیئر کبھی بلوچستان تو کبھی کے پی کو دے رہا ہوتا ہے، کے پی میں پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جا رہی ہیں، پنجاب میں وسائل جا رہے ہیں، اسی بنا پر وہاں لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔
