(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیوریج صفائی کے دوران پیش آنے والے حادثات کی روک تھام کے لیے جامع حفاظتی ایس او پیز کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد سینیٹری ورکرز کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب افتخار علی سہو کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے جامع حفاظتی ایس او پیز تیار کیے ہیں۔
نئے ایس او پیز کے تحت گیسوں کی جانچ کیے بغیر مین ہول کھولنے یا اس کے قریب جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ زہریلی گیسوں اور آکسیجن کی سطح چیک کیے بغیر کسی بھی ورکر کو مین ہول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔
مکمل حفاظتی لباس اور ضروری آلات کے بغیر سینیٹری ورکرز سے کام نہیں لیا جا سکے گا۔ کام کی جگہ پر حفاظتی رکاوٹیں، وارننگ بورڈز اور ٹریفک سائنز لگانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
افتخار علی سہو کے مطابق جیٹنگ اور سکشن مشینری صرف تربیت یافتہ آپریٹرز استعمال کریں گے، جبکہ سینیٹری سپروائزر کی موجودگی کے بغیر سیوریج سے گاد نکالنے کا آپریشن نہیں کیا جائے گا۔
ایس او پیز کے تحت مین ہول میں داخلے کے لیے پیشگی منظوری اور پرمٹ ٹو ورک سسٹم لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں حفاظتی آلات کے بغیر کسی شخص کو بند جگہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سیوریج آپریشن کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 کو فوری اطلاع دینا لازم ہوگا۔
