اپ ڈیٹس
  • 264.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 41.39 قیمت فروخت : 41.46
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 277.10 قیمت فروخت : 277.60
  • یورو قیمت خرید: 317.94 قیمت فروخت : 318.52
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 197.38 قیمت فروخت : 197.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 197.54 قیمت فروخت : 197.90
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.76
  • سعودی ریال قیمت خرید: 73.77 قیمت فروخت : 73.90
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 75.45 قیمت فروخت : 75.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 427436 دس گرام : 366457
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 397477 دس گرام : 340685
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 6902 دس گرام : 5916
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی نظام ختم کرنے کی تیاری

10 Oct 2026
10 Oct 2026

(ویب ڈیسک) آئی ایم ایف کی شرائط اور ہدایات پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت بجلی اور گیس کے موجودہ سلیب اور کراس سبسڈی کے نظام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، اس نئے نظام کا بنیادی مقصد بجلی اور گیس کی رعایت اور سبسڈی کو صرف واقعی مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت بجلی کے شعبے میں سبسڈی کا نیا طریقہ کار جنوری 2027ء سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ گیس صارفین کیلئے یہ نیا نظام یکم جولائی 2027ء سے متعارف کرائے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اس نئے نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے کیلئے پاور ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی ایک خصوصی سماجی و اقتصادی رجسٹری بنانے پر کام شروع کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ مستحق صارفین کی رجسٹریشن کا یہ اہم ہدف رواں برس نومبر تک مکمل کرنے کی پلاننگ کی گئی ہے۔

شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور مکمل تصدیق کے بعد اسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بنیادی ریکارڈ سے جوڑ دیا جائے گا، تاکہ نئی رجسٹری کے ذریعے صرف انہی لوگوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے جو واقعی مالی مدد اور سبسڈی کے حقدار ہیں۔

اس عمل سے جنوری 2027ء تک بجلی میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی کا پرانا نظام ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا اور گیس صارفین کو بھی یکم جولائی 2027ء سے اسی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے پر طویل عرصے سے موجود گردشی قرضے کے بھاری دباؤ کو کم کرنے کیلئے سبسڈی کے اس پورے ڈھانچے میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے بھی بنیادی ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ کیلئے باقاعدہ درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے جاری تیاریوں پر آئی ایم ایف کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا ہے تاکہ گردشی قرضوں کے مستقل خاتمے اور شعبے کی بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے