(لاہور نیوز) ساندہ میں 18 سالہ لڑکی ماہم کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے والد، دو بھائیوں اور بہن سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں مقتولہ کا والد محمد انور، بھائی حماد، حمزہ اور بہن حنا شامل ہیں، پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران تمام مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق 26 ستمبر کو تشدد زدہ حالت میں ماہم کو گنگا رام ہسپتال لایا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی، پولیس کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر لڑکی کی لاش ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اپنی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا، ابتدائی تفتیش کے مطابق مقتولہ کو پائپ، لوہے کی سلاخوں اور دیگر اشیا سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق تحقیقات میں مقتولہ کے جسم کے حساس حصوں کو مبینہ طور پر گرم لوہے اور چھری سے جلانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، پولیس کے مطابق مقتولہ کے والد، بہن اور دونوں بھائی مبینہ طور پر تشدد میں ملوث تھے، پولیس کا کہنا ہے کہ مسلسل تشدد کے باعث ماہم جانبر نہ ہو سکی۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق واقعے میں ملوث تمام مرکزی ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
