نویں جماعت کے امتحانی نتائج پر وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار برہمی، اصلاحات کا فیصلہ
(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نویں جماعت کے امتحانی نتائج پر اظہار برہمی کرتے ہوئے خراب نتائج دینے والے اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نیا آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں سکول ایجوکیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں طلبہ کے امتحانی نتائج کو اساتذہ کی کارکردگی سے منسلک کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ ہر کلاس میں ماہانہ اور سالانہ امتحانات شروع کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا۔
مریم نواز شریف نے اگلے ہفتے مکمل ٹائم لائن اور ریفارمز پلان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے نویں جماعت میں 20 فیصد سے کم رزلٹ والے سکولوں میں فوری ایکشن کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے بہترین نتائج دینے والے سکولوں کے لیے انعامات دینے کی بھی ہدایت کی۔ ہر ضلع میں نتائج کے لحاظ سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سکولوں کے لیے انعامات کا اعلان کیا جائے گا۔
اجلاس میں سرکاری سکولوں میں کمزور طلبہ کے لیے ایوننگ کوچنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ پڑھائی میں کمزور طلبہ کو سکول سے نکالنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی پر بھی اتفاق ہوا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے 45 دن میں ہیڈ ٹیچرز کی خالی آسامیاں پُر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سرکاری سکولوں میں سبجیکٹ سپیشلسٹس کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وزیر تعلیم کو ہر سطح پر چیکنگ اور مانیٹرنگ مزید مؤثر بنانے کا بھی حکم دیا۔
مریم نواز شریف نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھون، جھنگ کے بہترین نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مظفرگڑھ اور لیہ کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نتائج کے اعتبار سے بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
وزیراعلیٰ نے سکولوں کی ڈسٹرکٹ وائز ماہانہ ریٹنگ کا ڈیٹا بھی طلب کر لیا۔ سکولوں کی مانیٹرنگ کے لیے ’’یونیفائیڈ مانیٹرنگ ایپ‘‘ متعارف کرانے کا فیصلہ بھی اجلاس میں کیا گیا۔
پنجاب میں ’’لائبریری آن ویل‘‘ کا پائلٹ پراجیکٹ لاہور سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سولرائزڈ چارجنگ کی سہولت سے لیس تھری ویلر میں 20 ہزار سے زائد ڈیجیٹل کتب فراہم کی جائیں گی، جبکہ لائبریری آن ویل میں ویڈیو لرننگ لیکچرز کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے آؤٹ سورس کیے گئے سکولوں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں صرف پوائنٹ سکورنگ سے بات نہیں بنے گی بلکہ حقیقی بہتری لانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی محنت طلبہ کے رزلٹ میں نظر آنی چاہیے۔
