(لاہور نیوز) اپنی زندگی کی آخری سانس تک فلم سے ناتا نبھانے والے پاکستانی سینما کے معتبر ہدایتکار الطاف حسین کی آج دوسری برسی منائی جا رہی ہے ۔
80سے زائد فلموں کی ہدایت کاری کے ساتھ الطاف حسین کا فنی سفر ایک روشن باب ہے، 1944ء میں خان پور میں آنکھ کھولنے والے الطاف حسین نے فلم ’’پنچھی تے پردیسی‘‘ سے ہدایتکاری کا آغاز کیا اور پھر فلمی پردے پر اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
87 سے زائد فلموں کی ہدایتکاری ان کے طویل اور کامیاب فنی سفر کی گواہی دیتی ہے، ان کی فلموں نے کئی نئے فنکاروں کو بھی شناخت دی، ’’اتھرا پتر‘‘، ’’سالا صاحب‘‘، ’’صاحب جی‘‘، ’’مہندی ‘‘، ’’دھی رانی‘‘ اور ’’مرد جینے نہیں دیتے‘‘ سمیت ان کی کئی فلمیں شائقین کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
فلم ’’صاحب جی‘‘ نے انہیں خاص شہرت دلائی، جس میں میڈم نور جہاں کا مقبول گیت ’’لڈی اے جمالو پاؤ‘‘ بھی شامل تھا۔
79 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والے الطاف حسین، آخری وقت تک فلم سے جڑے رہے اور وفات سے چند روز پہلے نئی فلم کی شوٹنگ شروع کی، ان کا فنی سفر پاکستانی سینما کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے۔
