(لاہور نیوز) داتا دربار لاہور میں فارن کرنسی کے اندراج اور کیش بک میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چار افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق چاروں افسران پر مس کنڈکٹ، کرپشن اور خرد برد کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، شاہد حمید، گلاب ارشاد، شیخ جمیل احمد اور طاہر مقصود کے خلاف انضباطی کارروائی کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، شاہد حمید سابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف داتا دربار، گلاب ارشاد، شیخ جمیل احمد اور طاہر مقصود سابق منیجرز اوقاف داتا دربار لاہور رہ چکے ہیں، طاہر مقصود کو مس کنڈکٹ کے معاملے پر پہلے ہی برخاست کیا جا چکا ہے۔
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2020 سے جون 2025 کے دوران داتا دربار کی 29 کیش کشادگیوں کے فارن کرنسی اندراجات کا پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی سے فرانزک آڈٹ کرایا گیا، رپورٹ میں امریکی ڈالرز، برطانوی پاؤنڈز سمیت مختلف غیر ملکی کرنسیوں کے اندراجات میں کٹنگ اور اوور رائٹنگ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق فارن کرنسی کے اعداد و شمار میں مبینہ ردوبدل سے محکمہ کو مالی نقصان پہنچانے کا الزام بھی سامنے آیا ہے، کمیٹی رپورٹ میں داتا دربار کی کیش بک کے جائزے کے دوران مختلف تاریخوں پر ٹیکس ادائیگیوں کے چیکس تحریر کئے جانے اور بعد ازاں بعض چیکس منسوخ کرکے کیش بک سے حذف کئے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق منسوخ کئے گئے چیکس کی رقوم خرد برد کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، چیکس کو منسوخ کرکے کیش بک سے حذف کرنے کے عمل کو مس کنڈکٹ، کرپشن اور قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچانے کے زمرے میں قرار دیا گیا ہے۔
مجاز اتھارٹی نے 2020-21 سے 2024-25 تک داتا دربار کے فارم نمبر 4 اور کیش بک کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے علاوہ ڈائریکٹر فنانس اوقاف پنجاب کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات اور پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹ کو بھی مدنظر رکھا۔
پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت باقاعدہ انکوائری کیلئے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اوقاف پنجاب اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اوقاف پنجاب پر مشتمل انکوائری کمیٹی مقرر کر دی گئی ہے۔
حکم نامے میں چاروں الزام علیہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ احکامات کی وصولی کے سات یوم کے اندر اپنا تحریری دفاع انکوائری افسر کے سامنے پیش کریں، مقررہ مدت میں دفاع پیش نہ کرنے کی صورت میں الزامات کو درست تسلیم کئے جانے کا تصور ہو گا۔
