(لاہور نیوز) پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اہم اصلاحات لانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
امتحانی اصلاحات کے تحت سوالیہ پرچوں کی تیاری سے لے کر نتائج کے اجرا تک پورے امتحانی نظام میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ طلبہ کی صلاحیتوں اور تعلیمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالیہ پرچوں میں آسان، مشکل اور نہایت مشکل نوعیت کے سوالات شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوالیہ پرچوں کی تیاری کے لیے باقاعدہ آئٹم بینک بھی تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے امتحانات میں سوالات کے معیار اور توازن کو بہتر بنایا جائے گا۔
امتحانی اصلاحات کے تحت پرچوں کی مارکنگ کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہر سوال کے مختلف مراحل کے الگ الگ نمبر دیے جائیں گے تاکہ طلبہ کی درست کوشش اور مرحلہ وار حل کو مناسب طور پر جانچا جا سکے۔
حکام کے مطابق اگلے سال سے انٹرمیڈیٹ کے پہلے سالانہ امتحانات کے نتائج ستمبر کے بجائے **اگست کے دوسرے ہفتے** میں جاری کیے جائیں گے۔
تمام تعلیمی بورڈز کو امتحانی اصلاحات پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ چیئرمین ٹاسک فورس برائے امتحانات کے مطابق مجوزہ اصلاحات سے امتحانات میں شفافیت بڑھے گی، نظام مزید مؤثر ہوگا اور طلبہ کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں گی۔
