(لاہور نیوز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو حکومتی رہنماؤں نے تاریخی سفارتی و دفاعی کامیابی، مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں امن و استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا معاہدے کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عوام کی جانب سے مکہ معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ حرمین شریفین کا محافظ بنا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ امن اور سلامتی کی ضمانت ہے اور پاکستان کو دنیا میں وہ مقام ملا ہے جس کی خواہش تمام ممالک رکھتے ہیں، مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر ہے، معاہدے کی خوشی میں پاکستان بھر میں تینوں ممالک کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔
احسن اقبال
وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تاریخی کامیابی ملی ہے، تینوں ممالک کا معاہدہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ امن کی ضمانت ہے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط رشتہ قائم ہے جب کہ مکہ دفاعی معاہدے سے خطے میں امن و استحکام کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اویس لغاری
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے کے امن کے لیے متحد ہوئے ہیں اور مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
طارق فضل چودھری
وزیر مملکت طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ تاریخی معاہدہ ملکی قیادت کے ویژن کا عکاس ہے، اس سے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہا مکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے امید کی نئی کرن ہے اور امت مسلمہ کے لیے خیر کا باعث ثابت ہوگا، کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی۔
رانا ثنااللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ مکہ کی مقدس سرزمین پر تاریخی معاہدہ ہونا اعزاز کی بات ہے، اس سے برادر اسلامی ممالک کے درمیان امن کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ مکہ دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کا باعث بنے گا۔
ان کا معاہدے کی تکمیل کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس معاہدے سے اسلامی ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔
عبدالعلیم خان
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ معاہدے سے اسلامی ملکوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ ملے گا۔
شزا فاطمہ
وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے مکہ دفاعی معاہدے کو مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخی معاہدے سے مسلم امہ کے لیے امن، اتحاد اور باہمی تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی، عسکری و سیاسی قیادت کی کاوشوں سے پاکستان کو عالمی سطح پر نیا وقار حاصل ہوا ہے۔
