(ویب ڈیسک)پاکستان کے درآمدی ایل این جی پر انحصار کے حوالے سے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کے 640 میگاواٹ قابل تجدید توانائی منصوبوں میں تاخیر کے باعث درآمدی آر ایل این جی پر انحصار برقرار رہے گا، جو پاکستان کے توانائی کے منظرنامے، توانائی کے تحفظ اور بجلی کی قیمت میں استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
کامیاب قابل تجدید توانائی نیلامیاں، مگر نتائج غیر یقینی کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کے 640 میگاواٹ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے، تمام ریگولیٹری منظوریوں کے باوجود، آئی جی سی ای پی 2025 کے بنیادی منصوبے میں شامل نہیں کیے گئے، جس سے ان پر عمل درآمد غیر یقینی ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت کے-الیکٹرک کی تقریباً 90 فیصد بجلی درآمدی آر ایل این جی پر مبنی ہے، جبکہ قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی بھی بڑی حد تک اسی ایندھن پر انحصار کرتی ہے، جس سے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں توانائی کے تحفظ کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ 640 میگاواٹ منصوبے مالی سال 2027 میں شروع ہو جائیں تو 2035 تک نظامی اخراجات میں 432 ملین امریکی ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے جبکہ بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کے ساتھ انضمام کی صورت میں بچت 1.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور قومی گرڈ پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی بحرانوں کے تناظر میں آر ایل این جی پر موجودہ انحصار توانائی کے تحفظ کے لیے بڑا خطرہ ہے لہٰذا کے-الیکٹرک کو کم لاگت اور قابل اعتماد مقامی و قابل تجدید ذرائع پر مبنی متنوع توانائی نظام کی جانب فوری پیش رفت کرنی چاہیے۔
